World
سری لنکا ایسٹر بم دھماکے: عدالت کا 15 ملزمان کو سزاؤں کا اعلان
سری لنکا کی ایک عدالت نے سنہ 2019 کے تباہ کن ایسٹر اتوار بم دھماکوں میں ملوث پندرہ افراد کو جرم ثابت ہونے پر سزائیں سنا دی ہیں۔ ان حملوں میں تین گرجا گھروں اور تین پرتعیش ہوٹلوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جن کے نتیجے میں دو سو ستر افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
سری لنکا کی ایک عدالت نے سنہ 2019 میں ملک بھر میں ہونے والے دلخراش اور ہلاکت خیز ایسٹر اتوار کے بم دھماکوں کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے پندرہ افراد کو مجرم قرار دے دیا ہے اور انہیں سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ان افسوسناک حملوں کے دوران شدت پسندوں نے ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کی تھیں جن کے نتیجے میں سویلینز اور غیر ملکی سیاہوں سمیت بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ عدالتی کارروائی طویل عرصے تک جاری رہنے کے بعد اب جا کر یہ اہم فیصلہ سامنے آیا ہے جسے انصاف کی فراہمی کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ سنہ 2019 میں ہونے والے ان مربوط بم دھماکوں میں تین اہم گرجا گھروں اور تین پرتعیش ہوٹلوں کو انتہائی سفاکانہ انداز میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ اتوار کے روز جب مسیحی برادری اپنے مذہبی تہوار ایسٹر کی تقریبات اور دعائیہ اجتماعات میں مصروف تھی، یکے بعد دیگرے ہونے والے دھماکوں نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس پرتشدد کارروائی کے نتیجے میں مجموعی طور پر دو سو ستر افراد لقمہ اجل بنے تھے جبکہ سینکڑوں افراد شدید زخمی بھی ہوئے تھے جن میں سے کئی تاحال معذوری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس اندوہناک واقعے نے نہ صرف سری لنکا کی معیشت اور سیاحت کو شدید دھچکا پہنچایا بلکہ پوری دنیا میں سکیورٹی کے حوالے سے گہری تشویش کی لہر دوڑا دی تھی۔
حکام اور تفتیشی اداروں نے اس بڑے پیمانے پر ہونے والی دہشت گردی کی تہہ تک پہنچنے کے لیے سالوں تک تحقیقات کیں، شواہد جمع کیے اور ملزمان کے خلاف مقدمات چلائے۔ عدالت کی جانب سے پندرہ افراد کو قصوروار ٹھہرانے کے بعد متاثرہ خاندانوں اور عیسائی برادری کے اندر ایک طویل انتظار کے بعد انصاف کی امید پیدا ہوئی ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف متاثرین کے لیے ایک مرہم کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ اس بات کا بھی مظہر ہے کہ دہشت گردی کے گھناؤنے جرائم میں ملوث عناصر قانون کے کٹہرے سے بچ نہیں سکتے۔ حکومتی اور سیکورٹی حلقوں کی جانب سے ملک میں امن و امان کی بحالی اور اس نوعیت کے سانحات کو مستقبل میں روکنے کے لیے مزید سخت حفاظتی اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے۔