World
فرانس میں نیا پولیس بل: احتجاج اور وجوہات کا جائزہ
فرانس میں ایک نئے متنازع پولیس بل کے خلاف ملک بھر میں شدید احتجاجی مظاهرے کیے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر قتل کا لائسنس دے دے گا۔
فرانسیسی دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ایک نئے اور انتہائی متنازع پولیس بل کے خلاف شدید احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اس قانون نے ملک بھر میں سیاسی اور سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور عام شہریوں کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ مظاہرین کا ماننا ہے کہ یہ قانون ملک میں آزادیِ اظہار اور شہریوں کے بنیادی حقوق کو سلب کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ اس قانون کے تحت پولیس کے اختیارات میں غیر معمولی اضافہ کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابدہی مزید کمزور ہو جائے گی۔ ناقدین اور انسانی حقوق کے سرکردہ کارکنوں نے اس قانون پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ایک ایسا قدم قرار دیا ہے جو مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کو قانونی تحفظ کے نام پر حد سے زیادہ چھوٹ فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ملک میں پولیس گردی اور اختیارات کے غلط استعمال کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب، فرانسیسی حکومت اور بل کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ قانون دراصل سکیورٹی فورسز کے تحفظ اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کے پیشِ نظر پولیس اہلکاروں کو حفاظتی ڈھال فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تاہم، عوام اور حزبِ اختلاف کے ارکان اس سرکاری مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے قانون کی فی الفور واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ملک بھر میں جاری ان احتجاجی مظاہروں نے حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور یہ معاملہ اب ایک بڑا سیاسی بحران بنتا جا رہا ہے۔ صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ بھی انتہائی احتیاط سے کام لے رہی ہے جبکہ احتجاجی تحریک کے رہنماؤں نے مطالبات پورے ہونے تک دھرنوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس متنازع بل کے حوالے سے کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔