LIVE
Loading Breaking News...

انتونیو گوتریس کا اقوام متحدہ میں غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر خطاب

News Image
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے آخری خطاب میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کے پھیلاؤ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے الوداعی خطاب میں غزہ کی سنگین صورتحال اور وہاں ہونے والی ہلاکتوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اپنے منصب کی مدت ختم ہونے سے قبل دیے گئے اس اہم ترین خطاب میں انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ مزید جانی نقصان کو روکا جا سکے۔ انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ غزہ میں جاری تنازعے نے انسانی تاریخ کے تاریک ترین ابواب میں اضافہ کیا ہے اور معصوم شہریوں کا اس طرح نشانہ بننا کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدوں پر عمل درآمد کریں اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کی راہ ہموار کریں۔ اپنے خطاب کے دوران سیکرٹری جنرل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر اور ان کے پھیلاؤ کے عمل پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ یہ غیر قانونی بستیاں دو ریاستی حل کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس طرز عمل کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو اس کے خطے پر انتہائی خطرناک اور دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق انتونیو گوتریس کا یہ آخری خطاب عالمی سطح پر فلسطین کے مؤقف کو اجاجر کرنے اور عالمی اداروں کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دنیا بھر کے رہنماؤں نے ان کے اس دوٹوک مؤقف کو سراہا ہے اور غزہ میں فوری طور پر انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔