LIVE
Loading Breaking News...

بدو کا محاصرہ: اسرائیل کی فلسطینی قصبے میں کارروائی

News Image
اسرائیلی قابض افواج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی قصبے بدو کا مکمل محاصرہ کر لیا ہے جس کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہیں۔ قصبے کو مکمل فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے گئے ہیں۔
اسرائیلی قابض افواج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع فلسطینی قصبے بدو کا سخت محاصرہ کر لیا ہے جس کی وجہ سے علاقے میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج کی بھاری نفری نے قصبے کے چاروں طرف مورچہ بندی کر لی ہے اور داخلے و خارجی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ اس کارروائی کے نتیجے میں قصبہ عملی طور پر ایک بڑی فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں مسلح اہلکاروں کا گشت مسلسل جاری ہے۔ اس سخت فوجی محاصرے کے باعث مقامی فلسطینی آبادی کی معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور لوگوں کو اپنے گھروں سے نکلنے اور نقل و حرکت کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے قصبے کے مختلف مقامات پر چیک پوسٹیں قائم کر دی ہیں جہاں سے گزرنے والے ہر شہری کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ مزید برآں، علاقے میں بجلی اور مواصلات کے نظام میں بھی خلل کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس سے مقامی آبادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فوجی محاصرے کو فلسطینیوں کی اجتماعی سزا قرار دیا ہے، تاہم اسرائیلی حکام کی جانب سے اس پیش رفت پر تاحال کوئی تفصیلی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔ قصبے کے داخلی راستے بند ہونے کی وجہ سے اشیائے خوردونوش اور ادویات کی فراہمی میں بھی تعطل پیدا ہو گیا ہے جس کے باعث مقامی رہائشیوں کے لیے مسائل مزید بڑھ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف حصوں میں اسرائیلی فوج کی جانب سے اس طرح کی کارروائیاں معمول کا حصہ بن چکی ہیں، جس کا مقصد علاقے میں فلسطینی مزاحمت کو دبانا اور کنٹرول مضبوط کرنا ہے۔ بدو قصبے کی موجودہ صورتحال نے خطے میں کشیدگی کو ایک بار پھر ہوا دی ہے، جبکہ عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ عام شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ محاصرہ بلا جواز ہے اور اس کا مقصد صرف فلسطینی شہریوں کو خوفزدہ کرنا ہے۔ حالات کی سنگینی کے پیش نظر علاقے میں مزید کسی ناخوشگوار واقعے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ اسرائیلی فوج کی موجودگی قصبے کے ہر کونے میں نمایاں ہے۔