World
ٹرمپ کی اقوام متحدہ میں ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے امن معاہدہ نہ کیا تو امریکہ ایران کو مکمل طور پر تباہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے نیویارک میں ایرانی وفد کے ساتھ امریکی حکام کی ملاقات کا بھی انکشاف کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت زبان استعمال کی اور وارننگ دی کہ اگر تہران کے ساتھ کوئی جامع امن معاہدہ طے نہیں پاتا تو امریکہ کے پاس ایران کو 'تہس نہس' یا تباہ کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں بچے گا۔ ان کا یہ بیان دنیا بھر میں سفارتی حلقوں کے اندر ہلچل مچا گیا ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ انہیں ایک انتہائی اہم فیصلے کا سامنا ہے جس میں یا تو تہران کے ساتھ سفارتی راستہ اختیار کرتے ہوئے معاہدہ کرنا ہے یا پھر انتہائی سخت فوجی اقدامات کا انتخاب کرنا ہے۔ اس خطاب کے دوران انہوں نے وینزویلا سمیت دیگر عالمی امور پر بھی بات کی اور اپنے اقدامات کا بھرپور دفاع کیا۔ دوسری جانب، ذرائع ابلاغ کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر امریکی حکام اور ایرانی وفد کے درمیان ایک اہم ملاقات بھی ہوئی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بیک چینل سفارت کاری کے دروازے اب بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی یہ دھمکی اگرچہ دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے، لیکن اس کے خطے کے امن پر دور رس نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی رہنما اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر زور دے رہے ہیں تاکہ کسی بھی بڑی جنگ یا تصادم سے بچا جا سکے۔