LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کی یمن پالیسی پر سعودی عرب میں تشویش

News Image
امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی سے گریز پر سعودی عرب میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اس صورتحال سے دونوںممالک کے دیرینہ اسٹریٹجک تعلقات میں تناؤ کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی سے گریز اور اس میں ہچکچاہٹ نے سعودی عرب کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سعودی قیادت بالخصوص ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور امریکی روئیے کو لے کر ریاض میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے اسٹریٹجک جنگوں سے گریز کی پالیسی نے خلیجی خطے کے سکیورٹی خدکات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ دوسری جانب، یمن کے میدانِ جنگ میں صورتحال مسلسل بدل رہی ہے جہاں حوثی باغیوں نے ملک کے بلند و بالا علاقوں اور اہم اسٹریٹجک مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اپنی پیش قدمی تیز کر دی ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغی اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی کارروائیوں کا اگلا مرحلہ شروع کر چکے ہیں۔ امریکی فضائی حملے رکنے کے بعد حوثیوں کی زمینی پیش قدمی نے خطے کے دیگر ممالک بالخصوص سعودی عرب کی سلامتی کے لیے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ فیصلہ واشنگٹن اور ریاض کے تعلقات پر براہ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب طویل عرصے سے یمن میں اپنی سرحدوں کے قریب موجود خطرات کے خاتمے کے لیے امریکی فوجی تعاون کا خواہاں رہا ہے۔ تاہم، ٹرمپ کی جانب سے اس معاملے میں پیچھے ہٹنے کے فیصلے کو سعودی عرب میں ایک ایسے موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں ریاض اپنے دفاع کے لیے خود انحصاری کی پالیسی پر مزید غور کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔