Business
عالمی معیشت میں شرح سود میں اضافے کی نئی لہر اور معاشی اثرات
توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی پر قابو پانے کے لیے دنیا بھر کے مرکزی بینک سخت مالیاتی پالیسیاں اپنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ تاہم، ڈوئچے بینک کا کہنا ہے کہ مارکیٹس اس عالمی لہر کے اصل پیمانے کو کم سمجھ رہی ہیں۔
عالمی سطح پر معاشی سرگرمیوں اور مالیاتی منڈیوں میں ایک بار پھر ہلچل دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں دنیا بھر کے بڑے مرکزی بینک بڑھتی ہوئی مہنگائی کو قابو میں لانے کے لیے سخت اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کی وجہ سے پالیسی سازوں کو شرح سود میں اضافے کا فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ نیا دورانیہ پچھلی دہائیوں کے مقابلے میں کسی حد تک معتدل ہو سکتا ہے، لیکن اس کے اثرات عالمی منڈیوں پر گہرے ہوں گے۔
دوسری جانب، معروف مالیاتی ادارے ڈوئچے بینک نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ مالیاتی مارکیٹس اس عالمی شرح سود کے اضافے کے حقیقی پیمانے اور وسعت کو کم اندازہ لگا رہی ہیں۔ بینک کا ماننا ہے کہ آنے والے مہینوں میں سرمایہ کاروں کو مزید سخت فیصلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ مہنگائی کا جن آسانی سے بوتل میں واپس نہیں آنے والا۔ گرمیوں کے مہینوں میں معاشی محاذ پر آنے والے طوفان کے بعد اب بینکرز اور مالیاتی ماہرین نے صورتحال کا کنٹرول دوبارہ سنبھال لیا ہے اور وہ افراط زر سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔
اس تمام صورتحال میں فیمیلی اور انفرادی سرمایہ کار بھی اپنے اثاثوں کو مہنگائی کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے محفوظ راستے تلاش کر رہے ہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ موجودہ غیر یقینی ماحول میں طویل مدتی سرمایہ کاری کے فیصلوں سے پہلے عالمی معاشی اشاریوں کا گہرائی سے مطالعہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ آنے والے دنوں میں مرکزی بینکوں کے فیصلوں سے نہ صرف کرنسی مارکیٹس بلکہ عام صارفین کی زندگی پر بھی براہ راست اثرات مرتب ہوں گے۔