LIVE
Loading Breaking News...

نریندر مودی کا طلباء کے احتجاج اور معافی کے اعلان پر ردعمل

News Image
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے امتحان کے متنازع پرچے لیک ہونے کے معاملے پر احتجاج کرنے والے نوجوان طلباء کے لیے معافی کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مودی کو معافی نہیں بلکہ ملک کے نوجوانوں سے باقاعدہ معافی مانگنی چاہیے۔
نئی دہلی: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے حالیہ یوتھ زیر قیادت مظاہروں کے دوران اپنے خلاف نعرے بازی کرنے اور توہین آمیز رویہ اپنانے والے طلباء کے حوالے سے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان تمام نوجوانوں کو معاف کرتے ہیں۔ یہ مظاہرے ملک بھر میں مسابقتی امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور تعلیمی نظام میں خرابیوں کے خلاف پھوٹ پڑے تھے، جن میں ہزاروں طلباء سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ وزیر اعظم مودی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ ان احتجاجی طلباء کو سزا دینا یا ان کے خلاف سخت کارروائی کرنا اس پیچیدہ مسئلے کا کوئی مستقل حل نہیں ہے، بلکہ حکومت کو تعلیمی شعبے کی اصلاحات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ تاہم وزیر اعظم کے اس معافی والے بیان کے بعد بھارتی سیاسی حلقوں میں شدید گرما گرمی شروع ہو گئی ہے۔ اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے وزیر اعظم مودی کے اس انداز کو کڑے ہاتھوں لیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے ملک کے کسی بھی متاثرہ طالب علم یا ان کے والدین سے ملاقات تک نہیں کی اور اب وہ معافی کا ڈراما کر رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ پیپر لیک اسکینڈلز نے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل تاریک کر دیا ہے، اس لیے وزیر اعظم مودی کو طلباء کو 'معاف' کرنے کے بجائے اس سنگین غفلت پر خود قوم اور نوجوانوں سے معافی مانگنی چاہیے۔ ماہرین کے مطابق، یہ احتجاجی مظاہرے مرکزی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن کر ابھرے ہیں کیونکہ نوجوان طبقہ بے روزگاری اور تعلیمی بدانتظامی کے خلاف شدید غم و غصے میں ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ اس معاملے کو نرمی سے نبھایا جائے تاکہ آنے والے دنوں میں سیاسی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔ لیکن اپوزیشن کی جانب سے اس ایشو پر مسلسل دباؤ بڑھایا جا رہا ہے اور حکومتی پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس تعلیمی بحران اور سیاسی لفظی جنگ کے مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ طلباء تنظیمیں بھی اپنے مطالبات پر ڈٹی ہوئی ہیں۔