World
امریکہ ڈنمارک دفاعی معاہدہ اور گرین لینڈ میں فوجی اڈے
امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سیشن کے دوران ایک اہم دفاعی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ گرین لینڈ میں دو نئے فوجی اڈے تعمیر کرے گا جبکہ ڈنمارک کی خودمختاری کی بھی توثیق کی گئی ہے۔
واشنگٹن اور کوپن ہیگن کے درمیان طے پانے والے ایک تازہ ترین دفاعی معاہدے کے تحت امریکہ کی جانب سے گرین لینڈ میں دو نئے فوجی اڈے تعمیر کیے جائیں گے۔ یہ اہم معاہدہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر طے پایا، جو کہ آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی سکیورٹی اور اسٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ معاہدے کی رو سے گرین لینڈ جو کہ ڈنمارک کے زیر انتظام ایک نیم خودمختار خطہ ہے، وہاں امریکی فوج کی موجودگی میں اضافہ ہوگا۔ ماہرین کے مطابق یہ قدم خطے میں بین الاقوامی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ بالخصوص آرکٹک کے تجارتی اور عسکری راستوں کے تحفظ کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اس معاہدے میں اس بات کا بھی بھرپور اعادہ کیا گیا ہے کہ گرین لینڈ پر ڈنمارک کی مکمل خودمختاری بدستور برقرار رہے گی۔ ڈنمارک اور امریکہ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ باہمی اعتماد اور علاقائی دفاعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے عمل میں لایا گیا ہے، جس سے نہ صرف دونوں اتحادی ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے بلکہ نیٹو کی دفاعی صلاحیتوں کو بھی تقویت ملے گی۔ آنے والے دنوں میں اس منصوبے کے تحت تعمیراتی اور تکنیکی امور پر مزید بات چیت متوقع ہے، جس کے بعد دونوں فوجی اڈوں کی تعمیر پر باقاعدہ کام شروع کر دیا جائے گا۔