LIVE
Loading Breaking News...

پیراسیٹامول کی زائد خوراک سے متاثرہ طالبعلم کی صحت یابی کی کہانی

News Image
رائلی لوباس نامی طالبعلم نے انجانے میں پیراسیٹامول پر مشتمل دو مختلف ادویات کا استعمال کر لیا تھا جس سے ان کی صحت شدید متاثر ہوئی۔ طویل طبی جدوجہد اور بحالی کے عمل کے بعد اب وہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور بات کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔
برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم رائلی لوباس نے زندگی کی ایک بڑی جنگ جیت لی ہے جو انجانے میں پیراسیٹامول کی زائد خوراک (اوور ڈوز) لینے کی وجہ سے شدید بیمار ہو گئے تھے۔ اس افسوسناک واقعے کے نتیجے میں ان کی صحت اتنی زیادہ خراب ہوئی کہ وہ نہ صرف چلنے پھرنے سے قاصر ہو گئے بلکہ ان کی بولنے کی صلاحیت بھی عارضی طور پر ختم ہو گئی تھی۔ ڈاکٹرز کے مطابق رائلی نے دو ایسی مختلف اوور دی کاؤنٹر ادویات کا استعمال کیا تھا جن کے بارے میں وہ نہیں جانتے تھے کہ دونوں میں بنیادی جزو کے طور پر پیراسیٹامول موجود ہے۔ ایک ہی دوا کی دوہری مقدار جسم میں داخل ہونے کے باعث زہریلے اثرات مرتب ہوئے اور ان کے اعصابی نظام کو شدید نقصان پہنچا۔ اس واقعے کے بعد ان کے اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا کیونکہ ایک ہنستا کھیلتا نوجوان اچانک بستر تک محدود ہو کر رہ گیا تھا۔ تاہم مایوس ہونے کے بجائے رائلی اور ان کے خاندان نے اس مشکل ترین وقت کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ طویل طبی علاج، فزیوتھراپی اور بحالی کے خصوصی سیشنز نے معجزانہ طور پر کام کیا۔ مہینوں کی سخت محنت کے بعد اب رائلی نے نہ صرف اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑے ہونا سیکھ لیا ہے بلکہ وہ صاف بات چیت بھی کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ اس حیرت انگیز صحتیابی پر ان کے علاج کرنے والے ڈاکٹرز اور ماہرین بھی حیران ہیں۔ طبی ماہرین نے اس واقعے کے بعد عوام کے لیے ایک بار پھر اہم انتباہ جاری کیا ہے کہ کوئی بھی دوا استعمال کرنے سے پہلے اس کے اجزاء کا مطالعہ ضرور کیا جائے اور بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے ایک سے زائد ادویات بیک وقت استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔ رائلی لوباس کی یہ کہانی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ مضبوط عزم اور بہترین طبی امداد کی بدولت زندگی کی سب سے بڑی مشکلات کو بھی شکست دی جا سکتی ہے۔