LIVE
Loading Breaking News...

اولی کی زندگی بچانے والا جگر ٹرانسپلانٹ اور بے غرض فیصلہ

News Image
برطانیہ میں اولی نامی بچے کی زندگی بچانے والے جگر کی پیوند کاری کو دس برس مکمل ہو گئے ہیں۔ یہ کامیابی سترہ سالہ مریم کے بہادرانہ اور بے غرض فیصلے کی بدولت ممکن ہوئی۔
برطانیہ میں طبی دنیا کی ایک روشن مثال اس وقت سامنے آئی جب ایک چھوٹے بچے اولی کے جگر کی کامیاب پیوند کاری کو پورے دس برس بیت گئے۔ اولی اب بھی ایک صحت مند، خوش و خرم زندگی گزار رہا ہے اور اس کی یہ زندگی دراصل ایک سترہ سالہ نوجوان لڑکی مریم کے بروقت اور انتہائی بہادرانہ فیصلے کا نتیجہ ہے۔ آج سے ایک دہائی قبل جب اولی کی زندگی کو شدید خطرات لاحق تھے اور اس کا جگر ناکام ہو رہا تھا، اس خاندان پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔ ایسے نازک وقت میں مریم اور اس کے خاندان نے آگے بڑھ کر اعضا عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا جسے طبی حلقوں میں ایک بے غرض اور تاریخی قدم قرار دیا گیا۔ اس فیصلے کی بدولت اولی کو نیا جیون ملا اور وہ موت کے منہ سے واپس آنے میں کامیاب ہو گیا۔ اولی کے والدین آج بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ مریم کا یہ قدم نہ صرف ان کے بیٹے کے لیے زندگی کا پروانہ ثابت ہوا بلکہ اس نے پوری فیملی کو ایک نئی امید بھی دی۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اعضا کے عطیات معاشرے میں انسانیت کی بقا اور باہمی تعاون کی بہترین مثالیں ہیں۔ دس سال کا یہ طویل عرصہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بروقت طبی مداخلت اور اعضا کے عطیہ کی تحریک کتنی موثر ثابت ہو سکتی ہے۔ آج اولی ایک معمول کی زندگی گزار رہا ہے جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ انسانی ہمدردی اور قربانی کے جذبے سے کتنی بڑی مشکلات کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔