World
طاقتور ترین ایل نینو کی ریکارڈ پیشرفت اور عالمی اثرات
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ زیرِ ترقی ایل نینو ریکارڈ پر اب تک کا سب سے طاقتور نظام بن چکا ہے جس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اس موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں عالمی سطح پر موسم کے معمولات میں نمایاں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔
بین الاقوامی سائنسدانوں اور ماہرین موسمیات نے انتباہ جاری کیا ہے کہ زیرِ ترقی ایل نینو (El Nino) کا نظام ریکارڈ پر اب تک کا سب سے زیادہ طاقتور ترین نظام بن گیا ہے۔ یہ پیشرفت اپنے متوقع عروج سے چند ہفتے قبل ہی انتہائی شدت اختیار کر چکی ہے، جس کے واضح موسمی اثرات اب دنیا کے مختلف خطوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس بار کا ایل نینو ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ سکتا ہے جس سے عالمی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ اور موسم کے روایتی معمولات میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔
محکمہ موسمیات اور ماحولیاتی ریسرچ اداروں کے مطابق، اس طاقتور ایل نینو کی وجہ سے دنیا کے کئی حصوں میں شدید خشک سالی، جب کہ کچھ دیگر خطوں میں ریکارڈ توڑ بارشیں اور سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ سمندری پانی کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے نے عالمی موسمیاتی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور کسانوں، ماہی گیروں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کی معیشتوں کے لیے بھی نئے چیلنجز کھڑے ہو گئے ہیں۔ سائنسدان مسلسل اس صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس کے طویل المدتی نقصانات سے بچنے کے لیے بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ ایل نینو کے عروج میں ابھی چند ہفتے باقی ہیں، لیکن اس کی موجودہ شدت نے تمام اندازوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ زمین کے مختلف خطوں میں اس کے ابتدائی اثرات نے حکام کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت جاری کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک کو آنے والے دنوں میں مزید شدید موسمیاتی تغیرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تیاریوں کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔