World
سپریم کورٹ کا فیصلہ: نابالغ مجرموں کی سزاؤں سے متعلق اہم حکم
سپریم کورٹ نے اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد سزا پانے والے ایک شخص کی کم از کم مدت کے جائزے کی اپیل کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ موجودہ قانونی ضابطے اور سزاؤں کے اصول بین الاقوامی انسانی حقوق کے منافی نہیں ہیں۔
برطانیہ کے اعلیٰ ترین ادارے اور سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ نابالغ مجرموں کو سنائی جانے والی سزاؤں اور ان کے کم سے کم مدت کے قوانین کسی بھی طرح انسانی حقوق کی بین الاقوامی یا ملکی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اس مؤقف کو سختی سے مسترد کر دیا کہ یہ قوانین انصاف کے تقاضوں کے منافی ہیں۔ یہ فیصلہ ایک ایسے مجرم کی جانب سے دائر کی جانے والی اپیل پر سامنے آیا جس نے اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد سنگین جرم کا ارتکاب کیا تھا اور عدالت سے اپنی سزا کی کم از کم مدت کا از سر نو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ عدالت عظمیٰ کے ججوں نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ عدالتی نظام میں نوعمر مجرموں کے معاملات کو سنتے وقت تمام تر قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اس ضمن میں عدالت نے کہا کہ سزاؤں کا موجودہ نظام معاشرتی تحفظ اور انصاف کے اصولوں پر سختی سے کاربند ہے، لہٰذا اس میں کسی بھی قسم کی غیر معمولی ترمیم یا تبدیلی کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، عدالت کا یہ فیصلہ اس تنازع کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا جو طویل عرصے سے نابالغ مجرموں کے حوالے سے قانونی حلقوں میں زیر بحث تھا۔ فیصلے کے بعد اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ اس نوعیت کے مقدمات میں عدالتی نظائر اور طے شدہ اصول ہی نافذ العمل رہیں گے، اور مجرموں کی جانب سے سزاؤں میں نرمی یا مدت کے جائزے کے لیے دائر کی جانے والی ایسی تمام اپیلیں قانونی کسوٹی پر پوری نہ اترنے کی وجہ سے ناقابلِ قبول قرار پائیں گی۔