Sports
افغان سائیکل سوار فریبا ہاشمی کا ایشیائی کھیلوں میں سلور میڈل
افغانستان میں ظلم و ستم سے بچنے کے لیے مرد کا روپ دھار کر سائیکلنگ کرنے والی افغان کھلاڑی فریبا ہاشمی نے ایشیائی کھیلوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سلور میڈل اپنے نام کر لیا ہے۔ انہوں نے تمام مشکلات کے باوجود اپنے کھیلوں کے خواب کو زندہ رکھا اور تاریخ رقم کی۔
ایشیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلے یعنی ایشیائی کھیلوں میں ایک انتہائی دل دہلا دینے والی اور حوصلہ افزا کہانی اس وقت دنیا کے سامنے آئی جب افغانستان کی ایک باصلاحیت سائیکل سوار فریبا ہاشمی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ویمنز روڈ ریس میں سلور میڈل اپنے نام کر لیا۔ یہ کامیابی محض ایک کھیل کا اعزاز نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی جنگجو خاتون کی لازوال جدوجہد کی کہانی ہے جنہوں نے نامساعد حالات اور ظالمانہ پابندیوں کے باوجود اپنے خوابوں کو مرنے نہیں دیا۔ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین پر کھیلوں سمیت زندگی کے ہر شعبے میں سخت پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں، جس کی وجہ سے فریبا ہاشمی اور ان جیسی دیگر ہزاروں خواتین کے لیے اپنے بنیادی حقوق کا حصول بھی ناممکن ہو گیا تھا۔ اپنے ملک میں مردوں کی طرح کھل کر جینے اور سائیکلنگ کے اپنے جنون کو جاری رکھنے کے لیے فریبا نے انتہائی خطرناک حالات کا سامنا کیا۔ اپنی شناخت چھپانے اور طالبان کی ظالمانہ نظروں سے بچنے کے لیے انہوں نے مردوں کا روپ دھارا اور انتہائی خفیہ انداز میں اپنے مشن کو جاری رکھا۔ آخر کار انہوں نے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر اپنے وطن سے فرار ہونے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ ایک آزاد ماحول میں اپنی کھیلوں کی صلاحیتوں کو نکھار سکیں اور دنیا کو دکھا سکیں کہ افغان خواتین کسی بھی میدان میں پیچھے نہیں ہیں۔ بیرون ملک پہنچنے کے بعد فریبا نے اپنی ٹریننگ میں ایک لمحے کے لیے بھی تعطل نہیں آنے دیا اور سخت محنت جاری رکھی۔ ایشیائی کھیلوں میں جب انہوں نے سلور میڈل جیتا تو یہ نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی تھی بلکہ پوری دنیا میں موجود ان تمام مظلوم خواتین کے لیے ایک امید کی کرن تھی جو جبر کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس تاریخی کامیابی پر کھیلوں کے عالمی حلقوں کی جانب سے فریبا ہاشمی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے اور ان کے عزم کو سراہا جا رہا ہے۔