World
ایتھوپیا میں خانہ جنگی کا خطرہ، سات مسلح گروپوں کا اتحاد
ایتھوپیا میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ سات مختلف مسلح گروپوں نے موجودہ وفاقی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے ایک نئے اتحاد کا اعلان کر دیا ہے۔ اس پیش رفت سے ملک میں ایک بار پھر شدید خانہ جنگی کے خطرات منڈلانے لگے ہیں۔
ایتھوپیا میں سیاسی اور عسکری بحران ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے جہاں سات مسلح گروپوں نے ملک کی موجودہ وفاقی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے ایک نئے سیاسی اور عسکری اتحاد کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس نئی پیش رفت کے بعد دنیا بھر کےمفاد عامہ کے اداروں اور سفارتی حلقوں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ یہ ملک ایک بار پھر تباہ کن خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ تمام مسلح گروپ ملک کے مختلف حصوں میں متحرک ہیں اور ان کے پاس کافی عسکری وسائل موجود ہیں۔ اتحاد بنانے والے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت ملک کو درست سمت میں چلانے اور تمام نسلی گروہوں کے حقوق کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے حکومت کے خلاف مشترکہ محاذ آرائی کا تہیہ کیا ہے تاکہ طاقت کے ذریعے مرکزی اقتدار میں تبدیلی لائی جا سکے۔
دوسری جانب ایتھوپیا کی مرکزی حکومت نے اس قسم کے اتحادوں کو مسترد کرتے ہوئے ملک کے آئین اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے غیر قانونی اقدامات ملک کو عدم استحکام اور بدامنی کی طرف دھکیل رہے ہیں جس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑے گا۔ سیکورٹی فورسز کو بھی اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی برادری نے ایتھوپیا کی اس تازہ ترین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت اور ان مسلح گروپوں کے درمیان مذاکرات کا کوئی راستہ نہیں نکالا گیا تو ملک میں انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے اور لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔