World
امیرِ قطر کا بیان، خلیجی خطے کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار
قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے خبردار کیا ہے کہ خطہ تاریخ کے ایک انتہائی خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دیرینہ سفارتی کوششوں میں تاخیر کی وجہ سے خطے کو موجودہ کشیدگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خلیجی خطہ اس وقت اپنی تاریخ کے سب سے زیادہ خطرناک اور نازک مراحل میں سے ایک سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر تنازعات کے پرامن حل کے لیے سفارتی راستے اختیار کریں تاکہ مزید تباہی سے بچا جا सके۔
شیخ تمیم کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ ماضی میں سفارتی کوششوں اور مذاکرات میں جو تاخیر برتی گئی، اسی کا نتیجہ ہے کہ آج خطے کو خطرناک بحرانوں کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق، دیرینہ مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل نہ کرنے کی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں جنگ اور محاذ آرائی کا خطرہ ہر وقت منڈلا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ جنگی صورتحال سے نمٹنے کا واحد حل محض فوجی طاقت کا استعمال نہیں بلکہ سنجیدہ سفارت کاری ہے۔
خطے کے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امیرِ قطر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ قطر ہمیشہ سے علاقائی تنازعات کے حل کے لیے ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس کا موقف رہا ہے کہ تمام فریقین کو انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ عالمی رہنماؤں کی طرف سے بھی اس بات کی تائید کی جا رہی ہے کہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے جائیں تاکہ مزید انسانی المیوں سے بچا جا سکے۔
حالیہ صورتحال نے نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ قطری قیادت کا یہ عزم ہے کہ وہ خطے میں استحکام لانے کے لیے تمام ممکنہ سفارتی اقدامات جاری رکھے گی۔ دنیا بھر کے مبصرین اس بیان کو خطے میں امن کی بحالی کے لیے ایک اہم اور بروقت اقدام قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔