World
امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کا نیا آرکٹک سیکیورٹی معاہدہ
امریکہ نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ آرکٹک سیکیورٹی سے متعلق ایک اہم معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے سے دونوں خطوط کے درمیان مہینوں سے جاری کشیدگی اور ڈیڈ لاک کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
امریکہ نے ڈنمارک اور نیم خود مختار علاقے گرین لینڈ کے ساتھ ایک انتہائی اہم اور جامع آرکٹک سیکیورٹی معاہدے پر باضابطہ دستخط کر دیے ہیں۔ واشنگٹن میں ہونے والے اس معاہدے کو دونوں اطراف سے ایک 'زبردست' اور تاریخی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، جس نے قطب شمالی کے اس حساس خطے میں سیکیورٹی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔ اس سمجھوتے کے نتیجے میں اس طویل کشیدگی اور ڈیڈ لاک کا بھی خاتمہ ہو گیا ہے جو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیوں کے بعد پیدا ہوا تھا اور کئی ماہ تک جاری رہا تھا۔
اس معاہدے پر دستخط کے بعد بین الاقوامی سطح پر بالخصوص نیٹو اور یورپی یونین کے حلقوں میں انتہائی مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔ یورپی اتحادیوں اور نیٹو قیادت نے اس پیشرفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے آرکٹک کے خطے میں دفاعی استحکام اور باہمی تعاون کو فروغ ملے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، جغرافیائی سیاسی لحاظ سے انتہائی اہمیت کے حامل اس خطے میں روس اور چین کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے پیش نظر امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان یہ اسٹریٹجک معاہدہ دفاعی نقطہ نظر سے انتہائی فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔
گرین لینڈ، جو کہ اپنے معدنی وسائل اور جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے، اب اس معاہدے کے تحت سیکیورٹی کے امور میں امریکہ اور ڈنمارک کے ساتھ مزید قریبی تعاون کرے گا۔ معاہدے کے تحت خطے میں دفاعی نگرانی، انفراسٹرکچر کی ترقی اور سمندری سلامتی کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کیا گیا ہے۔ فریقین کا ماننا ہے کہ اس سے نہ صرف آرکٹک کے علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی بلکہ اس خطے سے وابستہ تمام فریقین کے مابین اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔