LIVE
Loading Breaking News...

ایشین گیمز: انڈین ایم ایم اے فائٹر کا ہاتھ ملانے سے انکار اور نیا تنازع

News Image
ایشین گیمز میں انڈیا کا پہلا مکسڈ مارشل آرٹس میडल تنازع کی زد میں آ گیا جب انڈین فائٹر نے میچ کے بعد اپنے حریف سے ہاتھ ملانے سے صاف انکار کر دیا۔ اس واقعے کے بعد کھیلوں کے حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے اور سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
ایشین گیمز کے دوران مکسڈ مارشل آرٹس (ایم ایم اے) کے مقابلے میں اس وقت ایک بڑا تنازع کھڑا ہو گیا جب انڈیا کا پہلا ایم ایم اے میڈل جیتنے والے فائٹر نے مبینہ شکست کے بعد اپنے حریف سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا۔ یہ مقابلہ کھیل کے شائقین کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ یہ اس خطے میں اس کھیل کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور مقابلے کی سطح کو ظاہر کر رہا تھا، تاہم میچ کے اختتام پر پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے نے تمام توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی۔ مقابلے کے اختتام پر جب روایتی طور پر دونوں کھلاڑیوں کو احترام کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہاتھ ملانا چاہیے تھا، تو انڈین فائٹر نے ججز کے فیصلے پر اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حریف سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا۔ اس رویے نے وہاں موجود شائقین اور آفیشلز کو بھی حیران کر دیا اور کھیل کے میدان میں اس طرح کے غیر ورکرانہ رویے پر سوالات اٹھائے جانے لگے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انڈیا نے اس کٹھن کھیل میں اپنا پہلا تاریخی میڈل حاصل کیا تھا، لیکن اس کامیابی کی خوشی اس تنازع کے سائے میں دب گئی۔ کھیلوں کے ماہرین اور مبصرین کا ماننا ہے کہ کھلاڑیوں پر کامیابی کا دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے، لیکن کھیل کی روح کا احترام کرنا ہر سطح کے ایتھلیٹ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور کھیلوں کے پلیٹ فارمز پر بحث جاری ہے کہ آیا ججز کے فیصلوں پر ناپسندیدگی کا اظہار اس طرح کرنا مناسب ہے یا نہیں۔ انتظامیہ اور متعلقہ اسپورٹس باڈیز کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن اس واقعے نے ایشین گیمز کے اس ایڈیشن میں نمایاں جگہ حاصل کر لی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں کھلاڑی اس قسم کے رویوں سے گریز کریں گے تاکہ کھیل کی اصل روح اور باہمی احترام کو برقرار رکھا جا سکے۔