LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ: برازیل کے صدر لولا کا بیرونی مداخلت پر سخت مؤقف

News Image
برازیل کے صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ملک کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لاطینی امریکہ میں امریکی اثر و رسوخ کے دعوے کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
برازیل کے صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ خودمختار ممالک کے داخلی امور میں بیرونی مداخلت سے گریز کریں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ برازیل اپنی خود مختاری اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا اور کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر نے اپنے خطاب میں لاطینی امریکہ کے خطے میں امریکی طاقت اور اثر و رسوخ کو بھرپور طریقے سے اجاگر کیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے بیانات سے بین الاقوامی سفارت کاری میں تناؤ کے نئے آثا نمایاں ہو رہے ہیں، بالخصوص لاطینی امریکہ کی سیاست میں بیرونی طاقتوں کے کردار کے حوالے سے بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔ برازیل کے صدر کا یہ خطاب لاطینی امریکی خطے کے خود مختار ممالک کی ترجمانی کرتا ہے جو طویل عرصے سے بڑی طاقتوں کی مداخلت کے خلاف آواز اٹھاتے آئے ہیں۔ صدر لولا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی مسائل کو طاقت کے زور پر حل کرنے کے بجائے باہمی احترام اور سفارتی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تاکہ دنیا میں امن و استحکام قائم رہ سکے۔ اس صورتحال نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر ایک بار پھر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان طاقت کے توازن اور خودمختاری کے تنازعات کو تازہ کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر ماہرین اس تقریر کو لاطینی امریکہ کی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔ برازیل کی حکومت کی جانب سے اس دوٹوک مؤقف کے بعد خطے میں امریکی اور برازیلی تعلقات کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جن کا اندازہ آئندہےےےےے سفارتی ملاقاتوں اور پالیسی بیانات سے ہوگا۔