LIVE
Loading Breaking News...

سوڈان میں سنگین قحط کا خطرہ، جنگ کی وجہ سے بھوک کا نیا بحران پیدا

News Image
سوڈان میں جاری تباہ کن جنگ اور غذائی قلت نے ماضی کے ہولناک قحط کی یادیں تازہ کر دی ہیں۔ ملک بھر میں لاکھوں افراد شدید خوراک کی کمی اور جبری نقل مکانی کا سامنا کر رہے ہیں۔
سوڈان میں جاری خانہ جنگی اور مسلح تصادم نے ایک بار پھر ملک کو تاریخ کے بدترین انسانی بحران اور قحط کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ موجودہ حالات نے ماضی کے ان ہولناک قحط کی یادوں کو تازہ کر دیا ہے جن کا سامنا سوڈانی عوام نے تاریخ میں کیا تھا۔ اس حالیہ جنگ نے نہ صرف لاکھوں شہریوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے بلکہ ملک بھر میں خوراک کی شدید قلت بھی پیدا ہو چکی ہے، جس سے انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ بین الاقوامی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر امدادی کارروٹیاں تیز نہ کی گئیں تو صورتحال قابو سے باہر ہو جائے گی۔ ملک کے اندر زراعت، رسد کے نظام اور معیشت کی تباہی نے حالات کو مزید ابتر بنا دیا ہے۔ کسان اپنے کھیتوں تک پہنچنے سے قاصر ہیں اور مارکیٹوں میں اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس کی وجہ سے عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے بھی محتاج ہو چکا ہے۔ دوسری طرف، بڑے پیمانے پر نقل مکانی کرنے والے افراد پناہ گزین کیمپوں میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں جہاں صاف پانی، ادویات اور بنیادی خوراک کا نام و نشان تک نہیں۔ امدادی تنظیموں کو بھی سیکیورٹی کے شدید مسائل اور فنڈز کی کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانا جوئے شیر لانے کے مترادف بن چکا ہے۔ دنیا بھر کے انسانی حقوق کے اداروں اور فلاحی تنظیموں نے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور سوڈان کے لاکھوں بھوکے اور بے سہارا انسانوں کی جانیں بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کریں تاکہ اس انسانی المیے کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔