LIVE
Loading Breaking News...

یورپی عدالت میں کریمیا سے بچوں کی گمشدگی کا مقدمہ

News Image
یورپی عدالتِ انسانی حقوق میں ایک اہم کیس کی سماعت شروع ہو گئی ہے جس میں روس کے کریمیا پر قبضے کے بعد بچوں کے لاپتہ ہونے کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ایک سے پانچ سال کی عمر کے یوکرینی بچوں کو زبردستی لے جایا گیا۔
یورپی عدالتِ انسانی حقوق میں ایک اہم مقدمے کی سماعت کا آغاز ہو چکا ہے جس میں روس کی جانب سے سنہ ۲۰۱۴ میں کریمیا پر قبضے کے بعد بچوں کے لاپتہ ہونے کے سنجیدہ الزامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس قانونی کارروائی کا مقصد اس بات کا پردہ فاش کرنا ہے کہ کس طرح تنازعات کے دوران کمسن بچوں کو ان کے بنیادی حقوق اور خاندانی شناخت سے محروم کیا گیا۔ ابتدائی کارروائی کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ایک سے پانچ سال کی عمر کے کمسن یوکرینی بچوں کو مختلف چائلڈ کیئر اداروں سے زبردستی اٹھایا گیا اور پھر انہیں غیر قانونی طور پر گود لینے کے لیے آگے بڑھایا گیا۔ یہ واقعہ جنگ اور مسلح تنازعات کے دوران بچوں کے تحفظ کے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ متاثرہ فریقین اور انسانی حقوق کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ ریاست کی جانب سے اس طرح بچوں کو زبردستی منتقل کرنا جنگی جرائم کے مترادف ہے۔ اس کیس کی سماعت کے دوران عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ آنے والے وقتوں میں بین الاقوامی قانون اور جنگی صورتحال میں بچوں کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم قانونی مثال قائم کرے گا۔ عدالت کے جج اس پورے معاملے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حقائق تک رسائی حاصل کی جا سکے اور ذمہ داروں کے احتساب کا راستہ ہموار ہو سکے۔