LIVE
Loading Breaking News...

صدر اردوان کا اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف سخت خطاب

News Image
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے اقدامات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ فلسطین، لبنان اور سوڈان کے معاملات میں ناکام ہو چکا ہے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں اسرائیل کی جانب سے جاری جارحیت اور مبینہ نسل کشی کی سوچ پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں عملی اقدامات کرے اور مشرق وسطیٰ میں جاری خونریز کشیدگی کو فوری طور پر بند کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ صدر اردوان کا یہ بیان عالمی سطح پر انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے جس میں انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔ اپنے خطاب کے دوران ترک صدر نے اقوام متحدہ کے نظام کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ اس وقت شدید بحران کا شکار ہے اور اسے دانستہ طور پر ناکارہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین، لبنان اور سوڈان جیسے خطوں میں جاری بحرانوں کے دوران اقوام متحدہ اندرونی طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی ہے اور وہاں بے گناہ انسانیت کا خون بہہ رہا ہے، جبکہ عالمی ادارے کے پاس اس کا کوئی مؤثر حل موجود نہیں ہے۔ صدر اردوان نے عالمی اداروں بالخصوص سلامتی کونسل کی کارکردگی پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر عالمی امن کے ادارے ہی انسانی جانوں کے تحفظ میں ناکام ہو جائیں تو پھر ان کے وجود کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں جاری ناانصافیاں اور جارحیت مزید بڑے پیمانے پر تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں، اس لیے تمام عالمی طاقتوں کو اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر انسانی حقوق کی پاسداری کرنا ہوگی۔ ترک رہنما نے عالمی پلیٹ فارم سے ایک بار پھر مظلوم اقوام کے حقوق کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ ترکیہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہونے والی زیادتیوں اور ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا رہے گا۔ ان کے اس دو ٹوک مؤقف کو مختلف حلقوں کی طرف سے سراہا جا رہا ہے جبکہ بین الاقوامی سفارتی سطح پر بھی اس خطاب کے گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔