World
یمن بحران: حوثی جھڑپوں میں 169 ہلاک
یمن میں حوثی باغیوں اور سرکاری افواج کے درمیان بحیرہ احمر کے ساحلی مقامات پر شدید جھڑپیں جاری ہیں جن کے دوران 169 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان جھڑپوں کا مقصد خطے میں اسٹریٹجک بلند مقامات پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔
یمن میں حوثی باغیوں اور سرکاری افواج کے درمیان بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں پر تسلط کے لیے ہونے والی شدید جھڑپوں کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 169 تک پہنچ گئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ تازہ ترین لڑائی یمن کے اسٹریٹجک اور اہم ترین مقامات پر قبضے کے لیے لڑی جا رہی ہے، جہاں دونوں فریقین ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ ان جھڑپوں میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے جس سے عام شہریوں کی مشکلات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ کشیدگی اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب حوثی جنگجوؤں نے یمن کے مختلف حصوں خصوصاً تعز اور مارب جیسے اہم شہروں کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی۔ یمنی سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ حکومتی افواج نے باب المندب کے قریب ایک اہم اسٹریٹجک پہاڑی پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے جو کہ اس خطے میں بحری گزرگاہوں کی حفاظت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اگر یہ اہم مقامات حوثیوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں تو سکیورٹی کے حوالے سے صورتحال انتہائی تشویشناک ہو جائے گی۔
دوسری جانب ایرانی حمایت یافتہ حوثی تحریک نے اپنے حملوں کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور علاقائی طاقت کی رسہ کشی نے اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ خطے کے سیاسی اور عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری یہ خونریز تصادم نہ صرف اندرونی استحکام کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس سے بین الاقوامی سمندری تجارت بالخصوص بحیرہ احمر سے گزرنے والے جہازوں کی سلامتی کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔