World
ڈونلڈ ٹرمپ اور اینڈی برنہم کی نیویارک میں پہلی ملاقات اور اہم تبادلہ خیال
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک میں اپنی پہلی بالمشافہ ملاقات کے بعد اینڈی برنہم کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ تاہم، انہوں نے ملاقات کے دوران چاگوس کے معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانوی سیاسی رہنما اینڈی برنہم کے درمیان نیویارک میں ایک اہم اور تاریخ ساز بالمشافہ ملاقات انجام پائی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات ہے جس میں بین الاقوامی امور اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اینڈی برنہم کے بارے میں مثبت خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ان کے ساتھ بہترین طریقے سے کام کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اینڈی برنہم زمینی حقائق کو سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ کاروبار یا امور چلانا ایک مثبت تجربہ ثابت ہو گا۔
ملاقات کے دوران جہاں ایک طرف باہمی تعاون پر خوشی کا اظہار کیا گیا، وہیں دوسری طرف بعض متنازع عالمی امور پر بھی گرما گرم بحث ہوئی۔ امریکی صدر نے اس موقع پر چاگوس جزائر سے متعلق طے پانے والے سمجھوتے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ڈیل کو خوفناک قرار دیتے ہوئے اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے معاہدے خطے کے استحکام اور عالمی سفارت کاری پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں، جس پر مزید نظرثانی کی ضرورت ہے۔
اس پہلی ملاقات کو سیاسی تجزیہ کاروں کی جانب سے انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے برنہم کی تعریف اور دوسری طرف چاگوس معاہدے پر سخت موقف اپنانا آنے والے دنوں میں بین الاقوامی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ رابطہ مستقبل کے تعلقات کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے جہاں تجارت اور سکیورٹی جیسے اہم موضوعات پر تعاون کو مزید فروغ ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔