LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کا اقوام متحدہ میں ایران کے حوالے سے اہم بیان

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں تہران کے خلاف سخت کارروائی یا امن معاہدے میں سے کسی ایک کا بڑا فیصلہ کرنا ہے۔ ان کا یہ بیان سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے اس انتباہ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں عالمی تقسیم گہری ہونے کا ذکر کیا گیا تھا۔
واشنگٹن: امریکی سیاست اور بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے ایک اجلاس کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس ایران کے معاملے پر ایک 'بڑا فیصلہ' موجود ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا ایران کو مکمل طور پر مٹا دیا جائے یا پھر تہران کے ساتھ کوئی جامع امن معاہدہ طے پایا جائے۔ ان کے اس سخت گیر اور دوٹوک بیان نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ کی پہلے ہی کشیدہ صورتحال میں اس قسم کے بیانات مزید تناؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے اس جارحانہ بیان کا اندازہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی تقریر سے بالکل الگ تھا، جنہوں نے اپنے خطاب میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا کہ عالمی سطح پر سیاسی اور سفارتی تقسیم خطرناک حد تک گہری ہوتی جا رہی ہے۔ سیکرٹری جنرل کا مقصد تمام عالمی رہنماؤں کو باہمی تعاون، تحمل اور سفارت کاری کی طرف راغب کرنا تھا تاکہ دنیا کو مزید بڑے تنازعات سے بچایا جا سکے، تاہم ٹرمپ کے خیالات اس عالمی کینوس پر ایک بالکل مختلف اور خطرناک تصویر پیش کرتے نظر آئے۔ امریکہ اور ایران کے تعلقات گزشتہ کئی سالوں سے انتہائی کٹھن دور سے گزر رہے ہیں، اور جوہری معاہدے سے امریکہ کے انخلا کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشمکش میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ان کی روایتی دباؤ کی پالیسی کا تسلسل ہے، جس کا مقصد ایران پر نفسیاتی اور سیاسی دباؤ کو مزید بڑھانا ہے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی برادری چاہتی ہے کہ فریقین جنگ یا تصادم کی بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کریں تاکہ خطے کا امن اور استحکام برقرار رکھا جا سکے۔