LIVE
Loading Breaking News...

یورپی یونین کی پابندیاں: روسی اولیگارچز کے اخراج پر یوکرین کی تنقید

News Image
یوکرین نے یورپی یونین کے اس فیصلے پر سخت غصے کا اظہار کیا ہے جس کے تحت روسی ارب پتی افراد علی شیر عثمانوف اور میخائل فریڈمین کو پابندیوں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ کیف کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ماسکو کو غلط پیغامات جا رہے ہیں اور یہ عالمی دباؤ کو کمزور کرتا ہے۔
یورپی یونین کی طرف سے معروف روسی اولیگارچز علی شیر عثمانوف اور میخائل فریڈمین کو پابندیوں کی فہرست سے خارج کرنے کے فیصلے پر یوکرین نے شدید برہمی اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کیف حکومت کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے ماسکو کو انتہائی غلط سگنلز مل رہے ہیں اور اس سے روس پر عالمی دباؤ کمزور ہوگا۔ یاد رہے کہ ان دونوں روسی شخصیات کے تعلقات روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ انتہائی قریبی مانے جاتے ہیں، اور یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد مغربی ممالک نے ان پر کڑی پابندیاں عائد کی تھیں۔ یوکرینی حکام نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ جارح ملک کے قریب سمجھے جانے والے کاروباری افراد کو اس قسم کی چھوٹ دینا بین الاقوامی برادری کے اس عزم کو متزلزل کرتا ہے جو ماسکو کو اس جنگ کے مالیاتی اور اقتصادی نتائج سے دوچار کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ کیف کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب یوکرین کو شدید نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے، یورپی یونین کے اس فیصلے سے روس کے اندرونی حلقوں کو غلط تاثر مل سکتا ہے کہ پابندیوں سے بچنا ممکن ہے۔ دوسری جانب، یورپی یونین کے اندر اس فیصلے کو لے کر قانونی اور انتظامی سطح پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ کچھ رکن ممالک کا ماننا ہے کہ پابندیوں کے طویل مدتی نفاذ کے لیے قانونی تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے، تاہم اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ قدم یوکرین اور اس کے حامیوں کے لیے ایک بڑا سفارتی دھکا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، یہ صورتحال یورپ اور یوکرین کے درمیان تعلقات میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے کیونکہ کیف اپنے اتحادیوں سے روس کے خلاف مسلسل سخت ترین موقف کی توقع رکھتا ہے۔ مستقبل میں اس فیصلے کے کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہی لگایا جا سکے گا، لیکن فی الحال یوکرین کی طرف سے سامنے آنے والا ردعمل اس بات کا غماز ہے کہ کیف اس معاملے پر خاموش رہنے کو تیار نہیں۔ یوکرینی قیادت نے اپنے مغربی اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ روس کے خلاف یکجہتی کا مظاہرہ جاری رکھیں اور ایسے کسی بھی فیصلے سے گریز کریں جس سے ماسکو کو فائدہ پہنچنے کی کوئی بھی گنجائش نکلتی ہو۔