World
فلسطینی نژاد امریکیوں کی امریکی قانون سازوں سے ملاقات اور امدادی مطالبات
فلسطینی نژاد امریکی شہریوں نے 26 ریاستوں کے ارکانِ پارلیمنٹ سے ملاقات کر کے امریکی پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کے لیے اربوں ڈالر کی اضافی امداد کی درخواست کی گئی ہے۔
واشنگٹن میں فلسطینی نژاد امریکی شہریوں کے ایک بڑے وفد نے ملک بھر کے قانون سازوں سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، جن میں غزہ اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ آرگنائزرز کے مطابق، اس اہم سرگرمی میں چھبیس مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے تین سو سے زائد ووٹرز اور ارکانِ پارلیمنٹ نے شرکت کی اور امریکی خارجہ پالیسی میں فوری اور منصفانہ تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد واشنگٹن کے فیصلہ سازوں کو خطے کے زمینی حقائق سے آگاہ کرنا اور عام شہریوں کی مشکلات کو اجاگر کرنا تھا۔
یہ ملاقاتیں ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہیں جب سابق امریکی صدر اور اہم سیاسی شخصیات کی جانب سے اسرائیل کے لیے مزید مالی اور عسکری امداد کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ یا ان کے اتحادیوں کی جانب سے اسرائیل کے لیے دو اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کی خطیر رقم کی منظوری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلسطینی حامیوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ فلسطینی نژاد امریکیوں نے قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ اس قسم کے مالیاتی پیکجز کی حمایت کرنے سے گریز کریں جب تک کہ فلسطینی عوام کے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔
وفد کے شرکاء نے امریکی سینیٹ اور ہائوس آف ریپریزنٹیٹوز کے ارکان پر واضح کیا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم کو ایسے اقدامات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے جو تنازعے کو مزید طول دیں یا خطے میں انسانی بحران میں اضافے کا سبب بنیں۔ انہوں نے مطالبات کی ایک فہرست بھی پیش کی جس میں فوری جنگ بندی، متاثرہ علاقوں تک بلا تعطل امداد کی رسائی اور منصفانہ سیاسی حل کی تلاش کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا۔ ارکانِ کانگریس نے اس موقع پر وفد کے خیالات سنے اور ان کے تحفظات کو نوٹ کیا۔
امریکہ میں مقیم فلسطینی کمیونٹی کی جانب سے اس سطح پر سیاسی لابنگ اور ملاقاتیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ اندرونِ ملک پالیسی سازوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ فوری طور پر پالیسی میں بڑی تبدیلی کے آثار کم ہیں، لیکن اس قسم کے منظم عوامی رابطے اور دباؤ مستقبل میں امریکی خارجہ پالیسی اور امدادی ترجیحات پر ضرور اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ کمیونٹی کے رہنماؤں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں آواز اٹھانا جاری رکھیں گے اور حکومتی نمائندوں سے مسلسل رابطہ رکھیں گے۔