World
نیویارک میں ڈور ڈیش کا ڈیلیوری ورکرز کیلئے ریکارڈ مالی سمجھوتہ
نیویارک کے میئر نے ڈور ڈیش کے ساتھ ایک تاریخی اور ریکارڈ سمجھوتہ طے کیا ہے جس سے لاکھوں ڈیلیوری ڈرائیورز مستفید ہوں گے۔ یہ اقدام امریکہ کی کسی بھی ریاست میں اس نوعیت کا سب سے بڑا سمجھوتہ قرار دیا جا رہا ہے۔
نیویارک کے میئر نے ڈیلیوری کے شعبے سے وابستہ ورکرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی اور ریکارڈ ساز سمجھوتہ طے کر لیا ہے۔ یہ اہم معاہدہ مشہور آن لائن فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارم ڈور ڈیش (DoorDash) کے ساتھ طے پایا ہے، جس کا مقصد کم معاوضہ پانے والے ہزاروں ورکرز کو ان کا جائز حق دلانا ہے۔ اس پیشرفت کو مزدوروں کے حقوق کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
حاصل کردہ اطلاعات کے مطابق، یہ سمجھوتہ امریکہ کی تاریخ میں اس نوعیت کا سب سے بڑا مالی معاہدہ ہے جو کسی بھی شہر کی سطح پر طے پایا ہے۔ اس تاریخی معاہدے کے نتیجے میں مجموعی طور پر ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد ڈیلیوری ڈرائیورز براہ راست متاثر ہوں گے اور ان کے مالی حالات میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔ ان ورکرز کو طویل عرصے سے کم معاوضے اور نامناسب کام کے حالات جیسے مسائل کا سامنا تھا۔
شہری انتظامیہ اور میئر کے دفاتر کا کہنا ہے کہ اس سمجھوتے کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ شہر میں کام کرنے والے تمام گیگ ورکرز (Gig Workers) کو قانون کے مطابق مناسب اجرت اور تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس اقدام سے نہ صرف ڈرائیورز کی معاشی حالت مستحکم ہوگی بلکہ ڈیلیوری کمپنیوں کے لیے بھی ضوابط مزید سخت ہوں گے تاکہ وہ ورکرز کا استحصال نہ کر سکیں۔
معاہدے کی اس کامیابی کو ملک بھر میں سراہا جا رہا ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ دیگر امریکی شہر بھی اس کی پیروی کرتے ہوئے اپنے یہاں کام کرنے والے ڈیلیوری ورکرز کے حقوق کے لیے ایسے ہی اقدامات اٹھائیں گے۔ نیویارک کے حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے اور کسی بھی کمپنی کو مزدوروں کے استحصال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔