LIVE
Loading Breaking News...

پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، سکیورٹی فورسز کا بھرپور جواب

News Image
سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش کرنے والے دہشت گردوں کو پسپا کر دیا۔ اس دوران افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ پر پاکستانی فوج نے مؤثر جوابی کارروائی کی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں پاک افغان سرحد کے راستے دہشت گردوں کی جانب سے ملک میں داخل ہونے کی ایک اور کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ یہ واقعہ منگل کے روز پیش آیا جہاں افغانستان کے صوبوں ننگرہار اور پکتیا کی طرف سے دہشت گردوں نے پاکستانی حدود میں گھسنے کی کوشش کی۔ سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ عناصر کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھتے تھے جنہیں ریاست کی جانب سے 'فتنہ الخوارج' کہا جاتا ہے۔ فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کی اس گھناؤنی سازش کو خاک میں ملا دیا۔ دراندازی کی کوشش ناکام بنائے جانے کے بعد افغان طالبان نے سرحد پر قائم پاکستانی چوکیوں پر بلا اشتعال فائرنگ شروع کر دی۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز نے اس اشتعال انگیزی کا فوری اور مؤثر جواب دیا۔ جوابی کارروائی کے دوران پاکستانی جوانوں نے افغان طالبان کی متعدد چوکیوں اور دفاعی پوزیشنز کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کئی افغان طالبان اہلکار اپنی چوکیاں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔ سکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں کی حفاظت کے لیے انتہائی مستعد ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ واضح رہے کہ سن 2021 میں کابل میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسلام آباد کی طرف سے بارہا عبوری افغان حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے اور کالعدم ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ کرے، تاہم اس حوالے سے اب تک مؤثر اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس میں بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ افغان سرزمین پر موجود پناہ گاہیں اور فتنہ الخوارج کی سرگرمیاں پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کے لیے ایک بڑا خطرہ بنی ہوئی ہیں، جس کے تدارک کے لیے پاکستانی فورسز بھرپور عزم کے ساتھ برسرپیکار ہیں۔