LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد پشاور موٹر وے ایم ون ٹریفک کے لیے بند، پولیس ایڈو جاری

News Image
اسلام آباد پولیس نے اعلان کیا ہے کہ سکیورٹی خدشات اور سیاسی لانگ مارچ کے پیش نظر بدھ کی رات گیارہ بجے سے اسلام آباد پشاور موٹر وے کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا جائے گا۔ مسافروں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور اس کے بجائے لاہور اسلام آباد ایم ٹو موٹر وے استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسلام آباد پولیس نے منگل کے روز ایک اہم ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد اور پشاور کو ملانے والی موٹر وے (ایم ون) کو بدھ کے روز رات گیارہ بجے سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔ پولیس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ بیان میں جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت دیگر علاقوں سے سفر کرنے والے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایم ون موٹر وے کے استعمال سے گریز کریں اور اپنے غیر ضروری سفر کو ملتوی کر دیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم حفاظتی انتظامات کے تحت اٹھایا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔دوسری جانب پولیس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ لاہور اور اسلام آباد کے درمیان چلنے والی ایم ٹو موٹر وے بدستور تمام ٹریفک کے لیے کھلی رہے گی۔ موٹر وے استعمال کرنے والے تمام ڈرائیوروں اور مسافروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے سفر کی منصوبہ بندی کرنے سے پہلے اس صورتحال کو مدنظر رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کی زحمت یا پریشانی سے محفوظ رہ سکیں۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے متبادل راستوں پر بھی گشت بڑھا دیا گیا ہے تاکہ نقل و حمل کو حتی الامکان رواں رکھا جا سکے۔موٹر وے کی بندش کا یہ فیصلہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے پارٹی بانی عمران خان کی رہائی کے لیے 27 ستمبر بروز اتوار کو اسلام آباد کی طرف ایک طے شدہ لانگ مارچ کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی دارالحکومت کے گرد اور خیبر پختونخوا اور ملک کے شمالی حصوں سے داخلے کے اہم مقام اٹک پل پر تقریباً دو ہزار کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں تاکہ سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ دریں اثنا، وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنے احتجاجی پروگرام سے باز رہے اور اس صورتحال کو مزید پیچیدہ نہ بنائیں۔ انہوں نے حکومت کی تیاریوں کا ذکر کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے سکیورٹی کے معاملے میں کسی قسم کی کوتاهی نہیں برتیں گے۔