World
امریکہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کا آرکٹک دفاعی معاہدہ
امریکہ، گرین لینڈ اور ڈنمارک کے رہنماؤں نے نیویارک میں ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس کا مقصد آرکٹک کے خطے میں دفاعی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ کو گرین لینڈ میں مزید فوجی موجودگی اور دفاعی تنصیبات قائم کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔
امریکہ، گرین لینڈ اور ڈنمارک کے رہنماؤں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایک اہم دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد آرکٹک کے اسٹریٹجک خطے میں طویل عرصے سے چلی آ رہی کشیدگی کو ختم کرنا اور امریکہ کو گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی کو وسعت دینے کی اجازت دینا ہے۔ اگرچہ اس معاہدے میں ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ پرانا مطالبہ شامل نہیں ہے جس میں وہ گرین لینڈ کو باقاعدہ امریکی ریاست یا علاقہ بنانے کا مطالبہ کر رہے تھے، تاہم یہ سمجھوتہ خطے میں روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
معاہدے کی تفصیلات کے مطابق، امریکہ کو گرین لینڈ میں 'گولڈن ڈوم' نامی دفاعی نظام قائم کرنے کی اجازت دی گئی ہے جو کہ بیلسٹک میزائلوں کے خطرات کے خلاف ڈھال کا کام کرے گا۔ اس کے علاوہ امریکہ کو دو نئے فوجی مقامات نارساؤسواق اور میسٹرزویگ تک رسائی حاصل ہو جائے گی، جہاں وہ مستقبل میں بڑی فوجی تنصیبات تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ امریکہ پہلے ہی گرین لینڈ کے شمال مغرب میں پیتوفک اسپیس بیس چلا رہا ہے، لیکن اس نئے معاہدے کے بعد کولڈ وار کے دور کے بعد پہلی بار امریکی فوجی انفراسٹرکچر میں نمایاں اضافہ دیکھا جائے گا۔ معاہدے کے تحت واشنگٹن کو علاقے میں مستقل سکیورٹی کنٹرول مل گیا ہے اور کسی بھی غیر نیٹو ملک کو وہاں فوجی اڈے بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اس معاہدے پر دستخط امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن اور گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینس فریڈرک نیلسن نے ایک سہ فریقی تقریب کے دوران کیے۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم نے اس معاہدے کو ایک ایسا سمجھوتہ قرار دیا جو ہمیشہ قائم رہ سکتا ہے اور جو نیٹو الائنس کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ گرین لینڈ کے حق خودارادیت کا بھی احترام کرتا ہے۔ دوسری طرف، گرین لینڈ کے وزیراعظم نے بھی آرکٹک میں نیٹو کے مضبوط کردار کی تعریف کی۔
یہ معاہدہ 1951 کے دفاعی معاہدے میں ترمیم کرتا ہے اور اس کی کوئی آخری تاریخ نہیں ہے۔ اس کے تحت امریکی طیاروں اور بحری جہازوں کو گرین لینڈ کے سمندری حدود تک وسیع رسائی دی گئی ہے جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری پر بھی کڑی نظر رکھی جائے گی تاکہ حساس شعبوں اور معدنی وسائل پر نیٹو کے علاوہ کسی اور ملک کا کنٹرول نہ آ سکے۔ اس تاریخی معاہدے کے نفاذ کے لیے اب ڈنمارک اور گرین لینڈ کی پارلیمنٹس سے توثیق ہونا باقی ہے، جس کے بعد اس پر باقاعدہ عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔