Politics
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں پاکستان کی سفارتکاری اور مشرق وسطیٰ تنازع
وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ گئے ہیں۔ پاکستان عالمی فورم پر خطے کی سلامتی، کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ مؤقف کو بھرپور انداز میں اجاگر کرے گا۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ چکے ہیں جہاں وہ عالمی رہنماؤں کے سامنے علاقائی اور عالمی سلامتی کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔ اس موقع پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری شدید تناؤ اور بحران کے تناظر میں پاکستان کے لیے ایک فعال اور مضبوط سفارتکاری وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔ نیویارک میں عالمی فورم کی سائیڈ لائنز پر اہم سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں جن کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنا اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے لائحہ عمل طے کرنا ہے۔
دوسری جانب، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ گئے ہیں۔ نیویارک آمد کے بعد وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فرانس کے وزیر خارجہ سے اہم ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ خطے میں جاری بحرانوں بالخصوص مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی برادری کو خطے میں مزید خون خرابے کو روکنے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں تاکہ عالمی امن کو لاحق خطرات کو کم کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اپنے خطاب میں جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازع کے ساتھ ساتھ فلسطین میں جاری انسانی المیے اور اسرائیلی جارحیت کو بھی بھرپور انداز میں اٹھائیں گے۔ پاکستان کا یہ روایتی مؤقف رہا ہے کہ خطے میں اس وقت تک پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک کشمیری اور فلسطینی عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حقِ خودارادیت نہیں مل جاتا۔ موجودہ علاقائی ہنگامہ خیز صورتحال میں وزیراعظم کا یہ دورہ پاکستان کو عالمی سطح پر اپنا مؤثر سفارتی کردار ادا کرنے کا ایک بہترین موقع فراہم کر رہا ہے۔
عالمی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان خطے میں ثالثی اور امن کی بحالی کے لیے ہمیشہ سے مثبت کردار ادا کرتا آیا ہے۔ نیویارک میں ہونے والی ان اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان کی جانب سے پیش کیا جانے والا مؤقف نہ صرف ملک کے سفارتی قدآور کو بلند کرے گا بلکہ خطے کے مظلوم عوام کی آواز کو بھی عالمی سطح پر موثر انداز میں پہنچائے گا۔