Politics
عمران خان سے جیل میں ملاقات پر پابندی، بہنیں زیر حراست
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے جیل میں ایک بار پھر اہل خانہ کی ملاقات کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔ اس بار ان کے کزن کو بھی سابق وزیر اعظم سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ ان کی بہنیں پہلے ہی نظبند ہیں۔
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حکام نے ایک بار پھر عمران خان کی ان کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب سے ملاقات کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ اس بار ان کے کزن کو بھی جیل کے اندر بانی پی ٹی آئی سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی، جس سے پارٹی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب عمران خان کی بہنیں پہلے ہی پولیس کی حراست میں ہیں۔ اس سے قبل علیمہ خان کے علاوہ عمران خان کی دیگر دو بہنیں عظمیٰ خان اور نورین خان بھی لاہور میں ایم پی او کے تحت تیس دن کے لیے نظبند کی جا چکی ہیں۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سیاسی دباؤ بڑھانے اور احتجاجی تحریک کو کمزور کرنے کے لیے اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ دوسری جانب، سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی اسپیکر اور حکومتی اقدامات پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سمیت کئی دیگر رہنماؤں نے بھی عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری اور جیل میں سیاسی قیدیوں کے بنیادی حقوق سلب کیے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ ملکی حالات میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، بالخصوص جب پی ٹی آئی کی جانب سے رہائی کے لیے احتجاجی مظاہروں کی کال دی گئی ہو۔ جیل انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ سکیورٹی خدشات اور ضابطہ فوجداری کے تحت ملاقاتوں پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے، تاہم تحریک انصاف نے اسے سیاسی انتقام اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔