LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل سے کم ہو گئیں

News Image
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور یہ سو ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہیں۔ اس کمی کی بڑی وجہ سعودی عرب کی جانب سے ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کی دوبارہ بحالی اور ایران کے معاملے پر سفارتی کوششوں کی امیدیں ہیں۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے اور قیمتیں ایک بار پھر سو ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز بھی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ دنیا بھر میں رسد کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات میں کمی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کے حالات اب بتدریج بہتری کی طرف جا رہے ہیں جس سے صارفین کو کچھ ریلیف ملنے کی توقع ہے۔ اس کمی کی ایک اہم وجہ سعودی عرب کی جانب سے ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو دوبارہ شروع کرنے کے اقدامات ہیں۔ ذرائع کے مطابق سعودی حکام نے اس اہم پائپ لائن کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے تیل کی ترسیل کا عمل معمول پر آنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ ایشیائی ریفائنرز کو بھی یہ اطلاع دی گئی ہے کہ وہ جلد ہی بحیرہ احمر کے ذریعے اپنے تیل کے کوٹے حاصل کر سکیں گے، جس سے منڈی میں تیل کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور ہو رہی ہیں۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران کے معاملے پر سفارتی کوششوں میں تیزی آنے کی امیدیں بھی تیل کی قیمتوں کو نیچے لانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے اور سفارتی سطح پر معاملات حل ہوتے ہیں تو تیل کی قیمتوں میں استحکام مزید گہرا ہو سکتا ہے اور عالمی معیشت پر پڑنے والے دباؤ میں بھی کمی آئے گی۔ معاشی ماہرین نے موجودہ صورتحال کو عالمی تجارت کے لیے ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے کیونکہ مہنگائی کے اس دور میں تیل کی قیمتوں کا سو ڈالر سے نیچے آنا صنعتی سرگرمیوں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کے لیے انتہائی سودمند ہے۔ آنے والے دنوں میں اوپیک (OPEC) اور دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کے آئندہ فیصلوں پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے جو مارکیٹ کے اگلے رجحان کا تعین کریں گے۔