LIVE
Loading Breaking News...

آئی ایم ایف کا ترقی یافتہ معیشتوں کو قرضے گھٹانے کا مشورہ

News Image
آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی جھٹکوں کی وجہ سے عالمی سطح پر قرضوں کی سطح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی ادھار کی لاگت کے تناظر میں اپنے قرضوں میں فوری کمی لائیں۔
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے دنیا بھر کی ترقی یافتہ معیشتوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی ادھار کی لاگت اور مالیاتی دباؤ کے پیش نظر اپنے قرضوں کی سطح کو نیچے لانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے واضح کیا کہ حالیہ برسوں کے دوران مختلف معاشی جھٹکوں نے ممالک کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں قرضوں کا بوجھ آسمان کو چھونے لگا ہے۔ کرسٹالینا جارجیوا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے مختلف معاشی بحرانوں اور عالمی چیلنجز کے نتیجے میں حکومتوں نے بڑے پیمانے پر قرضے حاصل کیے، جس سے قرضوں کی سطح سیڑھیوں کی طرح اوپر کی طرف بڑھتی چلی گئی۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ اب جبکہ عالمی سطح پر شرح سود اور قرض لینے کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، ان بلند ترین قرضوں کو برقرار رکھنا معیشتوں کے لیے انتہائی مشکل اور نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرینِ معاشیات کا بھی ماننا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے اگر بروقت مالیاتی نظم و ضبط کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو اس کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت کو اس کے منفی نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔ آئی ایم ایف نے تمام متعلقہ حکومتوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے بجٹ کے خسارے کو قابو میں رکھیں اور ایسے مؤثر مالیاتی لائحہ عمل تیار کریں جو طویل المدتی استحکام کی ضمانت دے سکیں۔