AI
چین کے مصنوعی ذہانت کے مراکز اور ڈیٹا سینٹرز کا دورہ
بی بی سی نے اندرونی منگولیا کا دورہ کیا ہے جہاں چین کے مصنوعی ذہانت کے عزائم کو پورا کرنے کے لیے درجنوں نئے ڈیٹا سینٹرز تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ یہ وسیع و عریض مراکز جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہیں جو ملک کو دنیا بھر میں اے آئی کی دوڑ میں سرفہرست رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بی بی سی کو اندرونی منگولیا کے دورافتاده اور ویران علاقوں میں جانے کا موقع ملا ہے جہاں چین کے مصنوعی ذہانت کے عزائم کو عملی جامہ پہنانے والے درجنوں بڑے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ان دور دراز انجن رومز کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کو سب سے آگے لے جانا ہے۔ ان منصوبوں کی وسعت اور تیزی اس بات کا ثبوت ہے کہ بیجنگ حکومت اس شعبے میں عالمی قیادت حاصل کرنے کے لیے کس قدر سنجیدہ ہے۔
اندرونی منگولیا کا یہ خطہ اپنی جغرافیائی پوزیشن اور سازگار موسمی حالات کی وجہ سے ان بڑے ڈیٹا سینٹرز کے لیے انتہائی موزوں قرار دیا جا رہا ہے۔ یہاں قائم ہونے والے جدید ترین کمپیوٹر سسٹمز اور سرورز کو چلانے کے لیے زبردست توانائی درکار ہے، جسے پورا کرنے کے لیے مقامی سطح پر بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ مراکز نہ صرف چین کی ملکی سطح کی اے آئی ضروریات کو پورا کریں گے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ٹیکنالوجی کے توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، مصنوعی ذہانت کی یہ دوڑ مستقبل کی عالمی معیشت اور عسکری طاقت کا فیصلہ کرے گی۔ چین کی جانب سے انفراسٹرکچر میں یہ بھاری سرمایہ کاری اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ وہ اس میدان میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کو سخت مقابلہ دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کا یہ عمل صرف عمارتیں کھڑی کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ اس عزم کا عکاس ہے کہ چین ڈیجیٹل دور کا نیا سپر پاور بننا چاہتا ہے۔