LIVE
Loading Breaking News...

یورپ کی آٹوموبائل انڈسٹری کا بحران اور عسکری تیاری کا امکان

News Image
یورپ کی آٹوموبائل انڈسٹری شدید مالی و صنعتی بحران سے گزر رہی ہے جس سے نمٹنے کے لیے اب اعلیٰ حکام عسکری سازوسامان کی تیاری کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ دفاعی اخراجات میں اضافے کی یہ لہر ممکنہ طور پر کار ساز کمپنیوں کو اپنی صنعتی صلاحیتیں دوبارہ منوانے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔
یورپ بھر میں اس وقت کار ساز کمپنیاں ایک انتہائی گہرے اور پیچیدہ صنعتی بحران کا سامنا کر رہی ہیں۔ مارکیٹ میں طلب کی کمی، پیداواری لاگت میں اضافہ اور عالمی سطح پر سخت مسابقت نے روایتی آٹوموبائل سیکٹر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ صنعت سے وابستہ ماہرین اور اعلیٰ ایگزیکٹوز طویل عرصے سے اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اس زوال پذیر رجحان کو کیسے روکا جائے اور کس طرح فیکٹریوں کے پہیے رواں رکھے جائیں۔ ایسے میں ایک غیر متوقع زاویہ سامنے آیا ہے جو پوری انڈسٹری کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ حالیہ جغرافیائی سیاسی صورتحال اور خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر، یورپی ممالک اپنے دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ عسکری سازوسامان کی تیاری اور اسلحے کے ذخیروں کو جدید بنانے کی اس دوڑ کو 'ری آرممنٹ' کا نام دیا جا رہا ہے۔ آٹو انڈسٹری کے کئی سرکردہ رہنما امید ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ نیا رجحان ان کی مندی کے شکار کارخانوں کے لیے ایک مسیحا ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ ان کے پاس بھاری صنعتی مشینری اور انجینئرنگ کی وہ صلاحیت موجود ہے جو دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ اگرچہ کار بنانے والی کمپنیوں اور دفاعی پیداوار کے درمیان منتقلی اتنی آسان نہیں ہو گی، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ بحران کے وقت صنعتی ڈھانچے نے اکثر اپنی سمت تبدیل کی ہے۔ یورپی آٹو ایگزیکٹوز کا ماننا ہے کہ اگر حکومتوں کی جانب سے طویل مدتی دفاعی معاہدے فراہم کیے جائیں، تو وہ اپنی فیکٹریوں کے ذریعے نہ صرف دفاعی گاڑیاں بلکہ دیگر عسکری سازوسامان بھی تیار کر سکتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی کھوئی ہوئی مالی پوزیشن کو بحال کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور ملازمین کی ملازمتیں بھی خطرے سے باہر ہو سکتی ہیں۔ تاہم، اس حکمت عملی کے حوالے سے کچھ تحفظات بھی موجود ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ تجارتی اور مسافر بردار گاڑیوں کی تیاری سے ہٹ کر مکمل طور پر عسکری پیداوار کی طرف جانا ایک طویل مدتی قمار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود، موجودہ معاشی جمود کے تناظر میں کار ساز کمپنیوں کے پاس متبادل راستوں کی تلاش کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا۔ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ جنگی خطرات کی یہ فضا یورپی صنعت کے لیے کس حد تک سودمند ثابت ہوتی ہے اور کیا یہ بحران واقعی آٹوموبائل سیکٹر کے لیے نئی امید کا دروازہ کھول پائے گا۔