LIVE
Loading Breaking News...

والدین کے مالی سہارے کے بغیر زندگی گزارنے والے نوجوانوں کی کہانی

News Image
مختلف نوجوانوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کس طرح وہ والدین کی مالی پشت پناہی کے بغیر اپنی زندگی کے فیصلے خود کر رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں اس بات کا احاطہ کیا گیا ہے کہ معاشی سہارے کے بغیر نوجوانی کے دور میں قدم رکھنا کتنا مشکل اور چیلنجنگ ہو سکتا ہے۔
آج کے دور میں جب معاشی حالات انتہائی سخت ہوتے جا رہے ہیں، بہت سے نوجوانوں کے لیے زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے میں کچھ خوش نصیب نوجوانوں کو اپنے والدین کی طرف سے مالی معاونت حاصل ہوتی ہے جسے انگریزی میں 'بینک آف مم اینڈ ڈاڈ' کہا جاتا ہے۔ تاہم، بہت سے ایسے افراد بھی موجود ہیں جو اس طرح کے کسی بھی معاشی سہارے کے بغیر اکیلے ہی اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے بیس کی دہائی کے تین نوجوانوں نے اپنے انوکھے اور مشکل تجربات شیئر کیے ہیں کہ کس طرح وہ والدین کی مدد کے بغیر زندگی کی راہوں پر گامزن ہیں۔ ان نوجوانوں کا کہنا ہے کہ جب آپ کے پاس کوئی حفاظتی جال یا مالی معاونت موجود نہ ہو، تو ہر ایک قدم بہت سوچ سمجھ کر اٹھانا پڑتا ہے۔ کرایوں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، مہنگائی اور روزمرہ کے اخراجات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق، کسی بھی ہنگامی صورتحال یا نوکری چھوٹ جانے کی صورت میں ان کے پاس پیچھے ہٹنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے ذہنی دباؤ اور ذمہ داریوں کا احساس بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ اس صورتحال کے باوجود، ان نوجوانوں میں ایک منفرد خود مختاری اور اعتماد بھی پیدا ہوتا ہے۔ اپنے فیصلوں کے خود ذمہ دار ہونے کی وجہ سے وہ مالی معاملات میں زیادہ باشعور اور محتاط ہو جاتے ہیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی بچت کرنے کے طریقے سیکھتے ہیں اور اپنے کیریئر کے بارے میں انتہائی سنجیدہ فیصلے کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ والدین کی مالی مدد کے بغیر زندگی گزارنا انتہائی کٹھن ہے، لیکن یہ تجربہ نوجوانوں کو طویل مدت میں زیادہ مضبوط اور خود کفیل انسان بناتا ہے۔