LIVE
Loading Breaking News...

طلباء کے لیے اچھی نیند کی تجاویز اور ماہرین کے مشورے

News Image
یونیورسٹی یا کالج میں داخلہ لینے والے نئے طلباء اکثر نیند کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں جن کے لیے ماہرین نے خصوصی مشورے دیے ہیں۔ شام کے وقت چہل قدمی اور بستر کی صفائی جیسے چھوٹے اقدامات بہتر نیند لانے میں انتہائی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
یونیورسٹی یا کالج کی زندگی میں قدم رکھنے والے نئے طلباء کو اکثر تعلیمی دباؤ، نئے ماحول اور نائٹ آؤٹس کی وجہ سے نیند کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے طبی ماہرین نے کچھ بنیادی اور انتہائی کارآمد تجاویز دی ہیں جن پر عمل کر کے طلباء اپنی نیند کے معمولات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی کیریئر کے آغاز میں ہی اچھی عادات اپنانا پوری تعلیمی مدت کے دوران ذہنی اور جسمانی کارکردگی کو شاندار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ نیند کے ماہرین کے مطابق، بستر کی صفائی اور تازہ چادریں بچھا نا ذہنی سکون پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ جب طالب علم صاف ستھرے اور آرام دہ بستر پر سوتا ہے تو اس کا دماغ جلدی پرسکون ہو جاتا ہے اور اسے گہری نیند آنے میں مدد ملتی ہے۔ سونے کے کمرے کا ماحول جتنا پرسکون اور صاف ہوگا، نیند کا معیار اتنا ہی بہتر ہوگا۔ اس کے علاوہ، دن بھر کے تھکا دینے والے لیکچرز اور مطالعہ کے بعد شام کے وقت ہلکی پھلکی سیر کرنا بھی ایک بہترین نسخہ ہے۔ غروب آفتاب کے وقت چہل قدمی نہ صرف جسمانی صحت کے لیے مفید ہے بلکہ یہ دماغ کو دن بھر کے تناؤ سے آزاد کرتی ہے اور رات کو وقت پر بستر پر جانے کے بعد جلد نیند آنے کا سبب بنتی ہے۔ ماہرین کا اس بات پر بھی زور ہے کہ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیجیٹل اسکرینز کا استعمال مکمل طور پر بند کر دینا چاہیے۔ اسکرین سے نکلنے والی نیلی روشنی دماغ کو بیدار رکھتی ہے جس سے نیند کے ہارمونز کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ اس کے بجائے کتاب کا مطالعہ کرنے یا ہلکی موسیقی سننے کی عادت ڈالی جائے تاکہ جسم کو آرام کا سگنل مل سکے۔ باقاعدہ سونے کے اوقات کار مقرر کرنا اور ان پر سختی سے کاربند رہنا بھی طلباء کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اگر طلباء ان چھوٹی لیکن اہم باتوں پر عمل کریں تو وہ نہ صرف نیند کی کمی سے بچ سکتے ہیں بلکہ امتحانات اور روزمرہ کی تعلیمی سرگرمیوں میں بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔