World
پاکستان اور مسلم ممالک کا اسرائیل سے غزہ امن معاہدے پر عملدرآمد کا مطالبہ
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت اپنی ذمہ داریاں فوری طور پر پوری کرے۔ وزرائے خارجہ نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مذمت کرتے ہوئے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسویں اجلاس کے موقع پر پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک اہم اجلاس کے بعد مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ اس بیان میں اسرائیل پر سخت زور دیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے طے پانے والے امن منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت اپنے بقایا وعدوں کو فوری طور پر پورا کرے۔ پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل فوری، محفوظ اور بلا تعطل انسانی امداد کی فراہمی، ابتدائی بحالی کے سازوسامان اور اہم بنیادی ڈھانچے کی بحالی کو یقینی بنائے۔ وزراء نے سیز فائر کو برقرار رکھنے اور تمام خلاف ورزیوں کے خاتمے کو ناگزیر قرار دیا۔ مشترکہ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ غزہ امن منصوبے کے روڈ میپ پر مکمل عملدرآمد اس کا ایک لازمی حصہ ہے۔ اس فریم ورک میں اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا، بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی، اور غزہ پٹی میں نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (NCAG) کے تحت انتظامی امور کی ذمہ داریاں سنبھالنا شامل ہے۔ وزراء نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے اچھے نیات کے ساتھ اپنے وعدے پورے کریں۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی ان کے وطن سے جبری بے دخلی یا مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی ڈیموگرافک حیثیت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو یکسر مسترد کر دیا۔ اجلاس کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع، زمینوں پر قبضے، فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری اور آباد کاروں کی پرتشدد کارروائیوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ فلسطینی سرزمین کا ایک ناقابل تنسیخ حصہ ہے، اور امن منصوبے کے تحت مغربی کنارے اور غزہ پٹی کے انضمام کے ساتھ ساتھ مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بناتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے او آئی سی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت اور غیر قانونی اقدامات کے خلاف فوری نوٹس لے۔