LIVE
Loading Breaking News...

جنید حفیظ توہین مذہب کیس اپیل، لاہور ہائیکورٹ میں سماعت

News Image
لاہور ہائیکورٹ نے توہین مذہب کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے سابق یونیورسٹی لیکچرار جنید حفیظ کی اپیل پر سماعت کی ہے۔ عدالت نے استغاثہ سے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل شواہد کی قابلِ قبولیت پر دلائل طلب کر لیے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے منگل کے روز توہین مذہب کے ایک مقدمے میں سزائے موت کے خلاف سابق یونیورسٹی لیکچرار جنید حفیظ کی اپیل پر سماعت کی۔ عدالت نے اس دوران استغاثہ سے الیکٹرانک شواہد اور کیس میں شامل فیس بک پیج کی قانونی حیثیت اور قابلِ قبولیت کے حوالے سے دلائل طلب کیے ہیں۔ جسٹس صادق محمود خرم اور جسٹس محمد جواد ظفر پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اس اپیل کی سماعت کی، جس میں مدعی کے وکیل وکیل اطہر شاہ بخاری اور جنید حفیظ کے وکیل اسد جمال عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز میں عدالت نے مشاہدہ کیا کہ جنید حفیظ کی اپیل ملتان بنچ سے پرنسپل سیٹ پر منتقلی کے بعد فریقین کو باقاعدہ نوٹس جاری نہیں کیے گئے تھے۔ واضح رہے کہ جنید حفیظ کے وکیل کی درخواست پر یہ مقدمہ دسمبر 2021 میں لاہور منتقل کیا گیا تھا۔ منگل کو ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے اپیل پر باقاعدہ نوٹس جاری کیے جنہیں استغاثہ اور مدعی کے وکلاء نے عدالت میں ہی وصول کیا۔ عدالت نے مزید کہا کہ وہ کیس میں ملوث الیکٹرانک شواہد اور جنید حفیظ سے منسوب فیس بک پیج کی admissibility کے نکتہ پر استغاثہ کے دلائل سننا چاہتی ہے۔ اس کے بعد عدالت نے پہلے سماعت 7 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مدعی کے کونسل نے تیاری کے لیے طویل تاریخ کی استدعا کی جس پر بنچ نے اگلی تاریخ بعد میں بتانے کا کہا اور بعد میں سماعت 10 اکتوبر کے لیے مقرر کر دی گئی۔ جنید حفیظ، جو کہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ انگریزی ادب میں وزٹنگ لیکچرار تھے، کو پولیس نے 13 مارچ 2013 کو گرفتار کیا تھا اور فیس بک پر مبینہ توہین آمیز مواد اپ لوڈ کرنے کے الزامات کے تحت ان کا ٹرائل 2014 میں شروع ہوا تھا۔ ملتان کی ایک ڈیسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے 21 دسمبر 2019 کو انہیں توہین مذہب کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی، جس کے خلاف انہوں نے 2020 میں ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ جنید حفیظ کے اس طویل اور حساس مقدمے کے دوران کم از کم سات ججوں کے تبادلے بھی ہوئے ہیں۔ مقدمے میں استغاثہ کے 15 گواہوں نے بیانات ریکارڈ کرائے جبکہ 11 دیگر کو غیر متعلقہ قرار دے کر طلب نہیں کیا گیا۔ سیکورٹی خدشات کے باعث پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ نے اپریل 2014 میں اس ٹرائل کو ملتان سینٹرل جیل منتقل کر دیا تھا، جہاں اس کیس کی پیروی کرنے والے ایک سابق وکیل راشد رحمان کو مئی 2014 میں ان کے دفتر میں قتل کر دیا گیا تھا۔