LIVE
Loading Breaking News...

سپریم کورٹ کا حق مہر سے متعلق تاریخی فیصلہ جاری

News Image
سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ حق مہر بیوی کی کوئی قیمت یا عام قانون کے تحت کوئی ادنیٰ معاوضہ نہیں بلکہ شریعت کا عطا کردہ اس کا لازمی قانونی حق ہے۔ عدالت نے نادانستہ یا مشروط طور پر حق مہر کی ادائیگی سے گریز کرنے والے شوہروں کے خلاف عدالتوں کو مکمل اختیار کے ساتھ مداخلت کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے حق مہر سے متعلق ایک تاریخی فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حق مہر بیوی کی کوئی قیمت یا عام قانون کے تحت خریدی گئی شے کا معاوضہ نہیں ہے، بلکہ یہ اسلامی قوانین کے تحت نکاح کا ایک لازمی قانونی تقاضا ہے۔ جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں بننے والے اس بنچ نے اپنے 26 صفحات پر مشتمل فیصلے میں لکھا کہ حق مہر بیوی کا ایک خصوصی مالکانہ حق ہے جسے شوہر کو اچھے طریقے سے اور طے شدہ وقت پر بغیر کسی شرط کے ادا کرنا چاہئے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ اگر حق مہر ادا نہ کیا جائے تو عدالتوں کو قانون کے مکمل اختیار کے ساتھ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اس امر کو بھی اجاگر کیا کہ نکاح کو کبھی بھی کوئی ایسا سودا نہیں بننا چاہئے جہاں بیوی کے حقوق پس منظر میں چلے جائیں یا شوہر حق مہر کو مستقبل کے تنازعات میں بطور ہتھیار استعمال کرے۔ عدالت عظمیٰ نے یہ بھی ریمارکس دیئے کہ حق مہر کے معاملے میں عدالتوں کو ہمیشہ اس بنیادی نکتے سے آغاز کرنا چاہئے کہ اس سے صنفِ نازک کی عزت اور وقار جڑا ہوا ہے۔ یہ حق کسی کی مہربانی نہیں بلکہ شریعت، قانون اور انصاف کا واضح حکم ہے۔ عدالت کا بنیادی فرض یہ ہے کہ وہ شواہد کی روشنی میں اس بات کا تعین کرے کہ اصل حق کیا ہے اور پھر اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ حق مکمل طور پر پورا کیا جائے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ حق مہر کے تحفظ کا مطلب دراصل خاندان اور معاشرے کا تحفظ ہے، اور ایک ایسے معاشرے میں جہاں اسلامی اصولوں اور انسانی وقار کی پاسداری کا دعویٰ کیا جاتا ہے، اس قانون پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔ عدالت نے اس حوالے سے حضرت محمد ﷺ کی سنتِ مبارکہ کا بھی حوالہ دیا جنہوں نے حق مہر کو کبھی رسمی کارروائی نہیں سمجھا بلکہ ہر شادی میں اس کی ادائیگی پر زور دیا۔ اس فیصلے کے ساتھ ساتھ جسٹس شاہد بلال حسن نے اپنے اضافی نوٹ میں مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 اور متعلقہ قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے سخت ہدایات بھی جاری کیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نکاح رجسٹرارز نکاح نامے کے تمام کالمز بالخصوص کالم 13 سے 16 تک کو انتہائی احتیاط اور توجہ سے پُر کریں تاکہ حق مہر کی رقم، منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد کی تفصیلات بالکل واضح رہیں۔ نکاح رجسٹرار اس بات کے پابند ہوں گے کہ وہ دستخط یا انگوٹھا لگوانے سے پہلے تمام اندراجات فریقین کو پڑھ کر سنائیں اور کسی بھی کالم کو بلاجواز خالی نہ چھوڑیں۔ مزید برآں، نکاح نامے کے کالم 17 میں کسی بھی خاص شرط کو بھی بالکل واضح انداز میں درج کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے۔ یونین کونسلوں کے ذمہ داران کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام لائسنس یافتہ نکاح رجسٹرارز کے لیے باقاعدہ تربیتی سیشنز کا اہتمام کریں تاکہ نکاح نامے کے فارم کو میکانکی انداز میں بھرنے کے بجائے فریقین کے مابین طے پانے والے حقیقی معاہدے کو شفاف طریقے سے محفوظ بنایا جا سکے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ملک میں خواتین کے ازدواجی حقوق کے تحفظ کی سمت میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔