Pakistan
نوشکی میں پولیو ٹیم پر حملہ، دو پولیس اہلکار شہید
بلوچستان کے ضلع نوشکی میں موٹر سائیکل سوار نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور دو پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں انسدادِ پولیو مہم معطل کر دی گئی ہے جبکہ اعلیٰ حکام نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔
کوئٹہ اور نوشکی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ضلع نوشکی میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکار نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں جامِ شہادت نوش کر گئے۔ نوشکی سٹی کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) منور زمان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب موٹر سائیکل پر سوار مسلح حملہ آوروں نے خاتون پولیو ورکرز کی ٹیم کو سکیورٹی فراہم کرنے والے اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جو صوبے کے 32 اضلاع میں شروع ہونے والی ہفتہ وار انسدادِ پولیو مہم کا حصہ تھے۔ خوش قسمتی سے پولیو ٹیم کے تمام ارکان اس حملے میں محفوظ رہے اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ حکام کے مطابق فائرنگ کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، جبکہ جاتے ہوئے وہ شہید ہونے والے اہلکاروں کے سرکاری اسلحہ بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ اس اندوہناک واقعے کے فوراً بعد علاقے میں انسدادِ پولیو کی مہم کو معطل کر دیا گیا ہے۔ تاحال کسی بھی عسکریت پسند یا کالعدم تنظیم کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس بزدلانہ واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دونوں پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔ شہید ہونے والے اہلکاروں کی شناخت کانسٹیبل محمد یاسر اور کانسٹیبل عبدالرؤف کے ناموں سے ہوئی ہے۔ وزیر داخلہ نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعظادہ کیا کہ ہمارے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے کام کرنے والوں پر حملہ کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ ادھر وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی محکمہ داخلہ سے فوری طور پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے فرض کی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ پولیس کی تفتیش جاری ہے تاکہ حملے کے محرکات اور اس میں ملوث عناصر کا سراغ لگایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسدادِ پولیو مہم ایک قومی فریضہ ہے اور اس سے جڑے کارکنوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان دنیا کے ان آخری دو ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو وائرس اب بھی موجود ہے، جبکہ افغانستان اس فہرست میں دوسرا ملک ہے۔ بلوچستان میں پیر کے روز شروع ہونے والی اس تازہ ترین انسدادِ پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 2.3 ملین بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس موذی مرض کا خاتمہ کیا جا سکے۔ حالیہ ماحولیاتی سیمپلنگ میں مثبت نتائج سامنے آنے کے بعد یہ مہم انتہائی اہمیت کی حامل تھی۔