LIVE
Loading Breaking News...

بھارت کی جاپان کے خلاف سنسنی خیز فتح، امپائر کا فیصلہ تبدیل

News Image
بھارت نے تاریخ ساز ٹی ٹوئنٹی میچ میں جاپان کو دو رنز سے شکست دے کر بڑے اپ سیٹ سے جان چھڑائی۔ میچ کے آخری اوور میں امپائرز کی جانب سے وائیڈ بال کے فیصلے کو تبدیل کیے جانے نے بھارتی ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔
منگل کے روز سانو انٹرنیشنل کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے ایک تاریخی اور انتہائی مختصر ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھارت نے جاپان کو صرف دو رنز سے شکست دے کر ایک بڑے اپ سیٹ سے خود کو بچا لیا۔ بارش اور گیلے آؤٹ فیلڈ کے باعث یہ میچ پانچ پانچ اوورز تک محدود کر دیا گیا تھا، جس میں جاپان نے عمدہ باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کی نمبر ایک ٹیم کو دباؤ میں لے لیا۔ ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بھارتی ٹیم سست اور ٹرن لیتی ہوئی پچ پر مشکلات کا شکار رہی اور مقررہ پانچ اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر صرف 32 رنز بنا سکی۔ کپتان شریئس ائیر نے 16 رنز کی اننگز کھیلی اور ٹیم کے سب سے نمایاں بلے باز رہے، جبکہ جاپانی اسپنرز نے حالات کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ جاپان کی جانب سے چارلی ہارا ہنزی نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ صرف 33 رنز کے ہدف کے تعاقب میں جاپانی ٹیم نے شاندار بلے بازی کی اور میچ کو آخری اوور تک لے گئی۔ آخری اوور میں جاپان کو جیت کے لیے آٹھ رنز درکار تھے اور گیند اکشر پٹیل کے ہاتھ میں تھی۔ اس دوران کشیدگی عروج پر پہنچ گئی جب امپائر کرس تھرگیٹ نے بلے باز کی ریورس سوئپ کوشش پر دو گیندوں کو وائیڈ قرار دیا۔ بھارتی کپتان اور وکٹ کیپر سنجو سیمسن نے اس فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ شریئس ائیر نے اسکوائر لیگ امپائر کرس برکلے سے بات چیت کی، جس کے بعد دونوں امپائرز نے مشاورت سے دوسری وائیڈ کا فیصلہ واپس لے لیا اور اسے ایک درست گیند قرار دیا۔ فیصلے کی تبدیلی نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا اور جاپانی ٹیم مقررہ اوورز میں تین وکٹوں پر 30 رنز ہی بنا سکی۔ اس طرح بھارت نے بمشکل دو رنز سے کامیابی حاصل کی۔ اگر پہلا فیصلہ برقرار رہتا تو میچ کا نتیجہ کچھ اور ہو سکتا تھا۔ واشنگٹن سندر نے دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ اکشر پٹیل نے اپنے دو اوورز میں صرف سات رنز دیے۔ یہ میچ دونوں ٹیموں کے لیے ایشین گیمز کی تیاریوں کا حصہ تھا۔