LIVE
Loading Breaking News...

این سی سی آئی اے کی اسلام آباد میں کارروائی، 212 افراد گرفتار

News Image
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں کارروائی کرتے ہوئے غیر ملکیوں سمیت 212 افراد کو حراست میں لے لیا۔ ملزمان گوگل اسکیمز اور دیگر طریقوں سے بین الاقوامی فراڈ نیٹ ورک چلانے میں ملوث تھے۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اسلام آباد میں ایک بڑی کارروائی کے دوران تین کال سینٹرز پر چھاپے مار کر بین الاقوامی فراڈ اسکیموں میں مبینہ طور پر ملوث 212 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ ایجنسی کے ترجمان کی جانب سے منگل کے روز جاری کردہ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد کے سیکٹرز E-11 اور G-10 میں کی گئیں۔ ترجمان نے بتایا کہ یہ کریک ڈاؤن منظم سائبر فراڈ کے خلاف جاری کوششوں کا حصہ ہے، جس کے دوران غیر ملکی شہریوں سمیت مرد اور خواتین کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کارروائیوں کے دوران بھاری مقدار میں الیکٹرانک سامان بھی برآمد کیا گیا ہے، جن میں 306 موبائل فونز، 383 کمپیوٹرز یا سی پی یوز اور 299 مانیٹرز اور لیپ ٹاپس شامل ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ تمام آلات غیر قانونی سرگرمیوں اور بین الاقوامی سطح پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ملزمان گوگل اسکیمز اور کم ڈیٹنگ اسکیموں کے ذریعے بین الاقوامی فراڈ میں ملوث تھے، جبکہ اس نیٹ ورک کے تانے بانے بھارت اور برازیل سے بھی جڑے ہوئے پائے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ اس نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ واضح رہے کہ این سی سی آئی اے اس سے قبل بھی سائبر کرائم کے خلاف کئی بڑے آپریشنز کر چکی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہی کراچی میں ایک بڑی کارروائی کے دوران چار افغان شہریوں سمیت 27 ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا جو جعلی کالوں کے ذریعے غیر ملکی شہریوں سے مالی اور ذاتی معلومات حاصل کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ اگست کے مہینے میں بھی اسلام آباد میں ایک کارروائی کے دوران 114 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا تھا جو سائبر رومانس اور سیکسٹورشن نیٹ ورک چلانے میں ملوث تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں سائبر کرائم اور بین الاقوامی فراڈ میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ ڈیجیٹل اسپیس کو محفوظ بنایا جا سکے۔