LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد مارچ تاریخی ہوگا: پی ٹی آئی رہنما کا دعویٰ

News Image
پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی طرف آنے والا طویل مارچ سیاسی تاریخ کا ایک اہم اور تاریخی باب ثابت ہوگا۔ دوسری جانب حکومتی وزراء نے خبردار کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں کسی بھی قسم کی بدامنی یا قانون شکنی برداشت نہیں کی جائے گی۔
لاہور اور اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وفاقی دارالحکومت کی طرف ایک اور طویل مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماؤں کا اصرار ہے کہ یہ آنے والا مارچ ملکی سیاسی تاریخ کا ایک تاریخی باب ثابت ہوگا اور اس کے ذریعے عوام اپنے آئینی حقوق کے لیے بھرپور آواز اٹھائیں گے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق تمام تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہیں اور کارکنان کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور وفاقی وزراء نے پی ٹی آئی کو خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد میں نظام زندگی کو مفلوج کرنے یا امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ قانون شکنی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا اور ملک میں سیاسی استحکام کو سبوتاژ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزارت داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بھی ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ حکومتی عہدیداروں کا مؤقف ہے کہ سیاسی سرگرمی ہر جماعت کا حق ہے لیکن اس کی آڑ میں ریاست کو بلیک میل کرنے یا شہروں کو بند کرنے کے اقدامات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ دوسری طرف پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پرامن آئینی اور جمہوری حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اسلام آباد کی طرف یہ سفر ہر صورت طے کیا جائے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال ملک میں ایک نئے سیاسی بحران کو جنم دے سکتی ہے جس سے معیشت اور عوامی زندگی پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تدبر سے کام لیں اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں تاکہ ملک میں مزید سیاسی انتشار سے بچا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں دونوں جانب سے حکمت عملی کیا ہوگی، اس کا دارمدار آئندہ کے چند گھنٹوں کے فیصلوں پر ہوگا۔