LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں دھرنوں اور احتجاج سے معیشت کو یومیہ 120 ارب روپے نقصان کا خدشہ

News Image
وفاقی وزیر خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں جاری دھرنوں اور طویل احتجاجی مارچ کی وجہ سے قومی معیشت کو یومیہ ایک سو بیس ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو خود ساختہ بحران قرار دیتے ہوئے سیاسی جماعتوں سے قومی مفاد میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
اسلام آباد: وفاقی وزارت خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں کسی بھی قسم کے طویل احتجاجی دھرنوں اور لانگ مارچ کے انعقاد سے ملکی معیشت کو یومیہ بنیادوں پر تقریباً 120 ارب روپے کا زبردست مالی نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے اس تشویشناک صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور اسے ایک خود ساختہ معاشی بحران قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ نے معاشی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کاروباری سرگرمیوں کی معطلی، سپلائی چین میں خلل اور تجارتی مارکیٹوں کے بند ہونے کی وجہ سے ملک کو یومیہ کروڑوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی مختلف معاشی چیلنجز سے نبردآزما ہے، اس قسم کے دھرنے معاشی بحالی کے سفر کو شدید دھچکا پہنچا سکتے ہیں۔ حکومت نے تمام سیاسی فریقین اور احتجاجی رہنماؤں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے احتجاجی لائحہ عمل پر نظرثانی کریں۔ ملکی مفاد اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ سیاسی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ غریب عوام اور کاروباری طبقے کو مزید معاشی مشکلات سے بچایا جا सके۔