LIVE
Loading Breaking News...

ارل اسپینسر کی کتاب اور شہزادی ڈایانا کے بارے میں شاہی خاندان پر تنقید

News Image
شہزادی ڈایانا کے بھائی ارل چارلس اسپینسر نے اپنی نئی متنازعہ کتاب میں برطانوی شاہی خاندان کے رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کتاب کی اشاعت کے بعد شاہی محل اور مصنف کے درمیان لفظی جنگ شروع ہو گئی ہے جسے عالمی میڈیا میں زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔
برطانوی شاہی خاندان ایک بار پھر شہزادی ڈایانا کے ماضی کی وجہ سے شدید دباؤ میں آ گیا ہے۔ شہزادی ڈایانا کے بھائی ارل چارلس اسپینسر کی جانب سے لکھی گئی ایک نئی اور انتہائی متنازعہ کتاب نے ادبی اور شاہی حلقوں میں طوفان برپا کر دیا ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کے ساتھ ہی شاہی محل اور مصنف کے درمیان ایک نئی لفظی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے، جبکہ بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ نیویارک ٹائمز اور برطانوی اخبارات کے مطابق یہ کتاب اپنے اندر انتہائی سنسنی خیز اور تلخ حقائق رکھتی ہے جس نے تاریخ کے کئی چھپے ہوئے ابواب کو اجاگر کیا ہے۔ کتاب میں چارلس اسپینسر نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانوی شاہی خاندان نے شہزادی ڈایانا کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا وہ نہ صرف ظالمانہ تھا بلکہ اس نے ڈایانا کی زندگی کو شدید ذہنی دباؤ سے دوچار کیا۔ ناقدین کی جانب سے اس کتاب کو پرانی تلخیوں کا حساب چکانے اور ایک غصے سے بھرپور کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ڈایانا کے پرستار اسے ایک اہم تاریخی دستاویز مان رہے ہیں۔ کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد سے شاہی خاندان کی اندرونی کہانیوں پر ایک بار پھر سے بحث چھڑ گئی ہے اور عام لوگ بھی اس معاملے میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کتاب برطانوی بادشاہت کی ساکھ کے لیے ایک بڑا دھمکا ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس میں شاہی محل کے اندرونی نظام اور پروٹوکولز پر کڑے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ چارلس اسپینسر جو کہ اس پوری تاریخ کے چشم دید گواہ ہیں، انہوں نے اپنی کتاب میں کسی بھی قسم کی لگی لپٹی رکھے بغیر اپنے جذبات اور حقائق کو بیان کیا ہے۔ کتاب کی اشاعت کے بعد جہاں ایک طرف شاہی خاندان کی طرف سے خاموشی اختیار کی گئی ہے، وہیں دوسری طرف سیاسی اور سماجی حلقوں میں بھی اس پر گرما گرم بحث جاری ہے۔