AI
سلیکن ویلی اور ٹرمپ انتظامیہ کا ٹکراؤ، ووک اے آئی پالیسی پر عملدرآمد ناممکن قرار
ٹیکنالوجی کے بڑے اداروں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے مصنوعی ذہانت میں مبینہ بائیں بازو کے جھکاؤ کو ختم کرنے کی کوششوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اے آئی سسٹمز میں اس قسم کی اصلاحات کرنا تکنیکی طور پر ممکن نہیں ہے۔
واشنگٹن: سلیکن ویلی کے بڑے ٹیکنالوجی اداروں نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں مبینہ طور پر پائے جانے والے سیاسی تعصب کو ختم کرنے کی کوششوں پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ماڈلز میں اس نوعیت کی پالیسی سازی اور کریک ڈاؤن پر عملدرآمد کرنا تکنیکی اعتبار سے انتہائی مشکل یا ناممکن ہے۔ دوسری جانب، حال ہی میں سامنے آنے والی ایک اہم رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دنیا کے معروف چیٹ بوٹس میں نمایاں طور پر بائیں بازو کا سیاسی جھکاؤ پایا جاتا ہے، جس پر قدامت پسند حلقوں کی طرف سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ بگ ٹیک کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت کو تربیت دینے کے لیے استعمال ہونے والا ڈیٹا اور الگورتھم انتہائی پیچیدہ ہوتے ہیں اور ان میں کسی مخصوص سیاسی نظریے کو زبردستی داخل یا خارج کرنا ممکن نہیں۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگر حکومت اس حوالے سے سخت ضابطے نافذ کرتی ہے تو اس سے امریکی ٹیکنالوجی کی جدت طرازی اور عالمی مسابقت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ اس سے کمپنیاں غیر ضروری قانونی اور ضابطہ جاتی الجھنوں کا شکار ہو جائیں گی۔