World
اینڈی برہم کی اقوام متحدہ میں پہلی تقریر اور روسی پروپیگنڈے پر تنقید
برطانوی وزیر اعظم اینڈی برہم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں عالمی سطح پر روسی غلط معلومات کے بڑھتے ہوئے خطرات سے خبردار کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائے۔
برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برہم نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے اپنے پہلے خطاب میں دنیا بھر میں پھیلنے والی غلط معلومات اور پروپیگنڈے کے سنگین خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے کلیدی خطاب کے دوران اس بات پر زور دیا کہ کس طرح ریاستی اور غیر ریاستی عناصر غلط معلومات کا سہارا لے کر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور معاشروں میں عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر روس کی طرف سے پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے اور جھوٹی خبروں کا ذکر کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ یہ رجحان عالمی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
اینڈی برہم نے اقوام متحدہ کے مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں سچائی کو مسخ کرنا اور جعلی بیانیے بنانا انتہائی آسان ہو گیا ہے، جو بین الاقوامی امن و امان کے لیے زہرِ قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام جمہوری ملکوں کو متحد ہو کر ایک موثر اور مربوط لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔ برطانوی وزیر اعظم کے مطابق، سائبر اسپیس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو محفوظ بنانا اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے تاکہ پروپیگنڈے کے ذریعے عام عوام کی سوچ کو متاثر ہونے سے روکا جا سکے۔
اس خطاب کے دوران اینڈی برہم نے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط کرنے اور ڈیجیٹل شفافیت کے فروغ کے لیے نئے اقدامات اٹھانے کی بھی وکالت کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی برادری نے فوری اور فیصلہ کن اقدامات نہ کیے تو غلط معلومات کے یہ خطرناک رجحانات مستقبل میں دنیا بھر کے انتخابات اور سیاسی عمل کو بری طرح متاثر کر سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایک برطانوی رہنما کی جانب سے اقوام متحدہ کی سطح پر اس نوعیت کا سخت موقف اپنانا اس بات کا غماز ہے کہ مغربی ممالک اب اس خطرے کو قومی سلامتی کا ایک بنیادی مسئلہ تصور کر رہے ہیں۔